1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن عوام نے میرکل کو دوسری بار منتخب کر لیا

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت CDU اور ان کے اتحادیوں کو مخلوط حکومت قائم کرنے کے لئے درکار ووٹ حاصل ہوگئے ہیں۔

default

انگیلا میرکل کی جماعت CDU اور جرمن صوبے باویریا میں CDU کی سسٹر پارٹی CSU واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی

اتوار کے روز ہونے والے جرمن پارلیمانی انتخابات میں انگیلا میرکل کی جماعت CDU اور جرمن صوبے باویریا میں CDU کی سسٹر پارٹی CSU واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ سی ڈی یو کی سب سے بڑی حریف جماعت ایس پی ڈی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس مرتبہ فری ڈیموکریٹس FDPکو حیران کن طور پر توقعات سے زیادہ نشستیں ہاتھ لگیں۔

انتخابات کے غیر حتمی نتائج سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ میرکل اور ان کی جماعت سی ڈی یو کو حکومت سازی کے لئے اپنے حریف SPD کا اشتراک درکار نہیں ہو گا۔ دائیں بازو کی جماعت CDU کو گزشتہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لئے SPD کی مدد کی ضرورت پڑی تھی اور وسیع تر اتحاد کے باعث گزشتہ چار برسوں میں کئی مواقع پر سی ڈی یو کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

Flash-Galerie Bundeskanzlerin Angela Merkel Bundestagswahl 2009

میرکل اپنی جماعت حامیوں کے ہمراہ

غیر حتمی نتائج سے واضح ہے کہ انگیلا میرکل اور ان کی اتحادی جماعتیں جرمن وفاقی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں 325 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں جبکہ حکومت سازی کے لئے درکار نشستوں کی تعداد 308 ہے۔

نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا ہدف بجٹ خسارے میں کمی اور بے روزگاری میں اضافے پر قابو پانا ہوگا۔ عالمی اقتصادی بحران کے اثرات ابھی تک جرمن معیشت پر محسوس کئے جا رہے ہیں اور نئی حکومت کے لئے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے کوششیں بھی انتہائی اہمیت کی حامل رہیں گی۔

ایف ڈی پی کے ساتھ حکومت قائم کرنے میں انگیلا میرکل کی حکومت کے سامنے ایک معاملہ تجارتی اداروں میں حکومتی مداخلت کم کرنا بھی ہو گا۔ اس کے علاوہ ایک اور معاملہ جرمنی کی توانائی کی ضروریات کے لیے ایک مرتبہ پھر ایٹمی توانائی کا بروئے کار لانا بھی ہے۔

جرمن ایٹمی پلانٹس کو اگلے دس برسوں میں مکمل طور پر بند کر دینے کا منصوبہ ہے تاہم انگیلا میرکل کی جماعت ان پلانٹس کی بندش کی مدت میں توسیع چاہتی ہے۔

برلن میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انگیلا میرکل نے اپنی جیت پر خوشی کے اظہار کے ساتھ ساتھ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سخت محنت کا بھی عندیہ دیا۔’’ہم آج رات جشن منا سکتے ہیں مگر اس کے بعد ہمارے سامنے ایک مشکل کام ہے۔‘‘

غیر حتمی نتائج کے مطابق سی ڈی یو اور سی ایس یو انتخابات میں 33.6 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ شرح اگرچہ پچھلے انتخابات میں سی ڈی یو کو حاصل شدہ ووٹوں سے کم ہیں تاہم سی ڈی یو کی اتحادی جماعت ایف ڈی پی نے غیر متوقع طور پر 14.6 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔

اس کے مقابلے میں وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کی جماعت ایس پی ڈی 23.1 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ ماحول دوست گرین پارٹی کو دس فیصد ووٹ ملے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : گوہر نذیر