1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن عوام خود کو مسلح کر رہے ہیں

جرمنی میں چھوٹے ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں اچانک غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہتھیار بیچنے والوں کا کہنا ہے کہ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور اس کے سبب ہتھیار اپنی تحویل میں رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ ہتھیار تاہم بے ضرر ہوتے ہیں یعنی بظاہر یہ بالکل اصلی پستول یا ریوالور کی شکل کے نظر آتے ہیں لیکن یہ اُن کی نقل ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے پٹاخے یا گولیاں بھری ہوتی ہیں جو کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی لیکن ان کی آواز کسی کو خوفزدہ کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ مغربی جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں ایسے ہتھیار فروخت کرنے والے ایک تاجر کے بقول،’’لوگ خود کو محفوظ تصور نہیں کر رہے ہیں ورنہ وہ اتنے زیادہ ہتھیار نہ خریدتے‘‘۔ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا ہی کے شہر کولون میں نئے سال کی آمد پر ہونے والی تقریبات کے موقع پر خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں اور انہیں ہراساں کرکے لوٹ مار کے واقعات کے بعد ان ہتھیاروں کی فروخت میں تین گُنا اضافہ ہوا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا کی شہ سرخی بننے والے ان واقعات نے کولون ہی نہیں بلکہ پورے جرمنی کے عوام کو چوکنا کر دیا ہے اور جرمنی کے اسلحہ ڈیلرز کی وفاقی انجمن VDF نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں ایسے ہتھیاروں کی خرید و فروخت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جو بظاہر اصلی نظر آتے ہیں مگر یہ بے ضرر ہوتے ہیں اور ان کے استعمال کا مقصد کسی کو ڈرانا یا کسی بڑی کارروائی سے باز رکھنا ہوتا ہے۔

Symbolfoto Schusswaffen Waffenbesitz

جرمنی میں ایسے ہتھیار جنہیں ہینڈ بیگ میں یا چھوٹی درازوں میں رکھا جا سکتا ہے، کی مانگ میں بہت اضافہ ہوا ہے

جرمنی میں دراصل ہتھیاروں کے حصول یا ان کی خریداری وغیرہ کے بارے میں بہت سخت قوانین پائے جاتے ہیں تاہم نام نہاد ’چھوٹے اسلحہ لائسنس‘ کی مدد سے مذکورہ ہتھیار خریدنے اور انہیں اپنی تحویل میں رکھنے کی اجازت ہے۔ ایسے ہتھیاروں کو لوگ گھروں سے باہر بھی اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ ایک ’چھوٹے اسلحہ لائسنس‘ کی قیمت 50 تا 60 یورو ہوتی ہے۔ ان کو حاصل کرنے کے لیے کسی وضاحت کی بھی ضرورت نہیں نہ اور یہی اصول شکار اور اسپورٹس کے لیے استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر بھی لاگو کرتا ہے۔ اس کی تاہم ایک شرط ضرور ہے وہ یہ کہ اس لائسنس کی درخواست دینے والے کی عمر کم از کم 18 سال ہونی چاہیے۔ پولیس کا محکمہ درخواست دہندہ کی شخصیت اور اُس کے پس منظر کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے اور جب وہاں سب کچھ شفاف اور بے داغ نظر آئے تب اُسے یہ لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے چھوٹے اور بے ضرر ہتھیار خریدنے کے رجحان میں اضافے کا ایک بڑا سبب سوشل میڈیا نیٹ ورک بنا ہے۔ فیس بُک اور ایسے دیگر نیٹ ورکس کے ذریعے جرمن معاشرے میں انتہا پسندی اور دہشت گردانہ رویے میں اضافے کے سبب پیدا ہونے والے خطرات کے بارے میں جس تیزی سے خیالات اور تاثرات دنیا بھر میں پھیلائے جا سکتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے لوگوں کے رجحانات میں بھی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

Deutschland Polizisten am Kölner Hauptbahnhof

کولون میں نیو ایئر کی تقریبات میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات نے جرمن عوام کو خوفزدہ کر دیا ہے

کولون کے واقعات کے بعد سے یورپی ممالک خاص طور سے جرمنی میں عوامی رائے میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے اور معاشرے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ پناہ گزینوں کی جرمنی آمد کی مخالفت کرنے لگے ہیں اور ان کے خیال میں تارکین وطن یا پناہ گزین جرمن معاشرے میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کا ذریعہ بنیں گے۔ ایسی صورتحال سے سب سے زیادہ فائدہ چھوٹے اور دستی اسلحہ جات سازی کی صنعت اور اس کی تجارت کرنے والوں کو ہوا ہے ساتھ ہی جرمنی میں ایسے ادارے بھی اپنی دکانداری چمکا رہے ہیں جہاں ’خود کو تحفظ فراہم کرنے‘ یا ’اپنی حفاظت آپ کرنے کے تربیتی کورسز‘ پیش کیے جاتے ہیں۔

DW.COM