1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن طرز زندگی پسند نہیں تو مہاجر واپس چلے جائیں، جرمن رہنما

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا ہے کہ ایسے سخت گیر تارکین وطن جنہیں جرمن معاشرہ پسند نہیں، وہ جرمنی چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔

حکمران جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین CDU کے سینیئر رہنما ژینز شپاہن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسے تارکین وطن جو جرمنی میں لبرل طرز زندگی سے خائف ہیں، انہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ ’’ایسے افراد جنہیں ہماری آزاد خیالی پسند نہیں۔ جنہیں ہمارے نقل و حرکت کی آزادی اور کھلا پن قبول نہیں، وہ جرمنی سے واپس جا سکتے ہیں، کیوں کہ وہ اپنی جہالت ہم پر لاگو نہیں کر سکتے۔‘‘

اتوار کے روز شائع ہونے والے بیان میں شپاہن کا کہنا تھا، ’’بہت سے ایسے ہیں، جو ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتے، بلکہ وہ ہمارے طرز زندگی کے مخالف ہیں۔ ایسے افراد کا یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے۔‘‘

سپاہن نے مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے مرد تارکین وطن کی جانب سے خواتین اور ہم جنس پرستوں کا احترام نہ کرنے کی بھی مذمت کی۔ اتوار کے روز ایک جرمن اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا، ’’ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہاں باپ یا بھائی اپنی بہن یا بیٹی کے لیے شوہر ڈھونڈیں یا مذہبی احکامات کو جرمنی کےبنیادی قوانین پر فوقیت دیں۔‘‘

Valentinstag Flash-Galerie (AP)

جرمن معاشرے میں جنسی بنیادیوں پر تفریق روا نہیں رکھی جاتی

خود کو عوامی طور پر ہم جنس پرست کہنے والے سپاہن نے نے بتایا کہ برلن کی ایک مارکیٹ میں وہ اپنے مرد دوست کے ہمراہ تھے، جب ان پر جملے کسے گئے۔ ’’گھٹیا زبان استعمال کرنے والے لہجے سے غیرجرمن معلوم ہوتے تھے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جانب سے مہاجرین دوست پالیسی اختیار کرنے اور قریب ایک ملین مہاجرین کی جرمنی آمد کے تناظر میں خود میرکل کی اپنی جماعت کے بعض رہنما ناقدانہ رائے رکھتے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس موضوع پر جرمن عوام کی رائے بٹی ہوئی ہے جب کہ انتہائی دائیں بازو کی تحریکیں اور جماعتیں مہاجرین کے خلاف پائے جانے والے انہیں جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنی مقبولیت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔