1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن صدر کا فلسطين کے دورہ اور دو رياستی حل پر زور

جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے اپنے چار روزہ دورہٴ مشرق وسطیٰ کے اختتام پر منگل کے روز فلسطينی صدر محمود عباس سے ملاقات کی اور دو رياستی حل پر زور ديا۔

DW.COM

اشٹائن مائر نے کہا کہ اسرائيلی و فلسطينی تنازعے کے حل کے ليے فوری طور پر دو رياستی حل کی جانب بڑھنا چاہيے۔ انہوں نے يہ بيان مغربی کنارے کے دورے کے موقع پر فلسطينی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد ديا۔ جرمن صدر کے بقول اسرائيل کے برابر ميں ایک فلسطينی رياست کے قيام کی کوششوں پر کافی وقت صرف کيا جا چکا ہے۔ اشٹائن مائر نے مزيد کہا کہ ان کی نظر ميں اس تنازعے کا واحد حل دو رياستی ہی ہے اور اس سلسلے ميں فوری طور پر کام شروع کر ديا جانا چاہيے۔ جرمن صدر نے اپنے اس دورے کے موقع پر مشرق وسطیٰ ميں امن عمل کی مکمل حمايت کی يقين دہانی کرائی۔

محمود عباس نے پچھلے ہی ہفتے امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ عباس کے بقول ٹرمپ عنقريب مشرق وسطیٰ کا دورہ کرنے والے ہيں اور وہ ان کی ثالثی ميں اسرائيل سے بات چيت پر رضامند ہيں۔ جرمن صدر نے واشنگٹن ميں ٹرمپ اور عباس کی حاليہ ملاقات کو سراہا اور کہا کہ مشرق وسطیٰ ميں امن عمل کی تازہ کوششيں زمينی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی کی جانی چاہييں۔

دو رياستی حل پر زور دينے اور امن عمل کی بحالی کی کوششوں ميں حمايت کے ليے محمود عباس نے جرمنی اور يورپی يونين کا شکريہ ادا کيا۔ اس موقع پر صدر عباس نے دو رياستی حل کے ليے فلسطينی عزم بھی دہرايا۔ ملاقات ميں جرمن صدر نے اپنے فلسطينی ہم منصب کو يقين دہانی کرائی کہ جرمنی مستقبل کی فلسطينی رياست ميں سرمايہ کاری جاری رکھے گا۔

Israel Frank-Walter Steinmeier und Benjamin Netanyahu in Jerusalem (picture alliance/dpa/Newscom/R. Zvulun)

اشائن مائر نے فلسطين سے قبل اسرائيل کا دورہ کيا تھا

قبل ازيں جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے سابق فلسطينی رہنما ياسر عرفات کی قبر پر پھول چڑھائے اور وہ ايسا کرنے والے پہلے جرمن صدر بن گئے ہيں۔ اشائن مائر نے فلسطين سے قبل اسرائيل کا دورہ کيا تھا۔ اتوار کے روز انہوں نے وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو سے ملاقات کی تھی۔ گزشتہ ماہ جرمنی اور اسرائيل کے مابين ايک نيا سفارتی تنازعہ اس وقت کھڑا ہو گيا تھا جب اسرائيلی وزير اعظم نيتن ياہو نے دورے پر گئے ہوئے جرمن وزير خارجہ زیگمار گابریئل کے سامنے يہ شرط رکھی تھی کہ وہ يا تو نيتن ياہو سے ملاقات کر ليں يا پھر انسانی حقوق کے ليے سرگرم ان اسرائيلی غير سرکاری تنظيموں کے ارکان سے، جو اسرائيلی فوجيوں کو ’جنگی جرائم کے مرتکب‘ قرار ديتے ہيں۔ گابریئل نے ان اسرائیلی تنظیموں کے ساتھ مجوزہ ملاقات منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس پر اسرائیلی وزیر اعظم نے اُن سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔