1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن صدر مستعفی، چانسلرمیرکل کی مشکلات میں اضافہ

جرمن صدرہورسٹ کوہلر کے اچانک مستعفی ہونے کے بعد چانسلر میرکل کی سیاسی الجھنوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

default

جرمن صدرہورسٹ کوہلر

جرمن صدرہورسٹ کوہلر نے بیرون ممالک جرمن فوج کی کارروائیوں سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا تھا، جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اس تنقید کے بعد انہوں نے پیر کو استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔

جرمن سیاسی حلقوں میں خیال کیا جا رہا ہے کہ کوہلر کے مستعفی ہونے کے نتیجے میں انگیلا میرکل کے درد سر میں مزید اضافہ ہو جائے گا کیونکہ دوسری مرتبہ چانسلر کے عہدے پر فائز ہونے والی پچپن سالہ خاتون سیاستدان کی عوامی مقبولیت پہلے ہی کم ہو چکی ہے اور اب یورو کو لاحق مسائل اور دیگر سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں وہ مزید پریشانیوں میں مبتلا ہو سکتی ہیں۔

انگیلا میرکل نے صحافیوں کو بتایا: ’’میں نے صدر سےخصوصی درخواست کی کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں تاہم میں انہیں قائل نہ کر سکی۔‘‘ میرکل نے کہا کہ وہ ہورسٹ کوہلر کو یاد رکھیں گی۔

NO FLASH Horst Köhler erklärt Rücktritt

ہورسٹ کوہلر اپنی اہلیہ کے ہمراہ مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے

’’ میں نے ہمیشہ ہی کوہلر کے ساتھ کام کرتے ہوئے اچھا محسوس کیا۔ وہ ایک بہت اچھے مشیر تھے، اپنے وسیع تجربے کی وجہ سے انہوں نے بالخصوص مالیاتی اور اقتصادی بحران میں بہت عمدہ مشورے دیے۔‘‘

ہورسٹ کوہلر سن دو ہزار چار میں پہلی مرتبہ صدر منتخب کئے گئے تھے اور ایک سال قبل ہی وہ دوسری مرتبہ کرسی صدارت پر براجمان ہوئے تھے۔

کوہلر نے 22 مئی کو اپنے ایک بیان میں جرمنی کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کو بیرونی دُنیا میں جرمن فوج کی کارروائیوں کا جواز قرار دیا تھا۔ اس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ یونیورسٹی آف میونسٹر سے وابستہ Wichard Woyke نے ایک نشریاتی انٹرویو میں کہا:’’ یہ صدر کا کام نہیں ہے کہ وہ سیاسی امور پر بیان دے اور کوہلر نے یہ کیا، اب انہیں اتنا حیران نہیں ہونا چاہئے کہ ان پر ایسی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔‘‘

ابھی کوئی ایک ہفتہ قبل ہی انگیلا میرکل کے ایک اہم سیاسی ساتھی رونالڈ کوخ نے بھی صوبہ ہیسے کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفی دیا تھا۔ منجھے ہوئے سیاستدان کوخ کا استعفی بھی میرکل کے لئے ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel Rücktritt Horst Köhler

چانسلر انگیلا میرکل صدر کے مستعفی ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے

برلن کی فری یونیورسٹی سے منسلک سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر Nils Diederich کہتے ہیں:’’ میرکل نے کوخ کو کھو دیا اور کوہلر بھی جا رہے ہیں۔ گو کہ کوہلر سیاسی اعتبار سے اتنے طاقتور نہیں ہیں تاہم وہ علامتی طور پر بہت اہم تھے۔ ان کے جانے سے انگیلا میرکل کی اتحادی حکومت کچھ پریشانیوں کو شکار ہو سکتی ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے Nils Diederich نے کہا کہ اگر میرکل آئندہ کچھ ہفتوں کے دوران اپنے سیاسی ایجنڈے پر گرفت مضبوط نہیں رکھتی تو وہ اپنی مقررہ مدت پوری نہیں کر سکیں گی۔

جرمن آئین کے مطابق تیس دنوں کے اندر اندر نئے صدر کا انتخاب ضروری ہے اور میرکل کی اتحادی حکومت کو بہت جلد ہی کسی ایک امیدوار پر متفق ہونا ہوگا۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM