1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن صدارتی الیکشن: مضبوط ترین امیدوار وولف

تیس جون کو جرمنی میں ہونے والے صدارتی الیکشن کے لئے سب سے مضبوط امیدوار چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند پارٹی کرسچین ڈیموکریٹک یونین کے کرسٹیان وولف ہیں۔

default

قدامت پسند صدارتی امیدوارکرسٹیان وولف

اب تک شمالی جرمن صوبے لوئر سیکسنی میں وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز کرسٹیان وولف،جن کا بدھ کے روز 1224 رکنی وفاقی اسمبلی کہلانے والے قومی صدارتی انتخابی ادارے کے ذریعے انتخاب تقریبا یقینی ہے، کہتے ہیں کہ جرمنی کی خارجہ سیاسی ترجیحات کی فہرست کافی طویل ہے اور مستقبل میں برلن کو عالمی معاملات پر زیادہ توجہ دینا ہو گی۔

کرسٹیان وولف نے جرمن خبر ایجنسی DPA کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ جرمنی میں سماجی سطح پر عموماخارجہ پالیسی کے بارے میں یہ سوچا جاتا ہے کہ اس کا مقصد بیرونی دورے کرنے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

NO FLASH Merkel

جرمن چانسلر میرکل، پس منظر میں کرسٹیان وولف (بائیں) اور وزیر خارجہ ویسٹر ویلے

سابق وفاقی جرمن صدر ہورسٹ کوہلر کے مئی میں اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانے کے بعد نئے سربراہ مملکت کے انتخاب کے لئے تیس جون کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ یوں وفاقی اور صوبائی پارلیمانی اداروں کے ارکان پر مشتمل فیڈرل اسمبلی کہلانے والے ادارے کے کل 1224 ارکان کو بدھ کے روز نئے جرمن صدر کا چناؤ کرنا ہے۔

اس عہدے کے لئے موجودہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں قدامت پسند جماعتوں CDU اور CSU اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی FDP کے مشترکہ صدارتی امیدوار کرسٹیان وولف ہیں، جن کے بارے میں یہ بات قدرے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر انہیں فیڈرل اسمبلی میں مخلوط حکومت کے سبھی ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی تو وہ آسانی سے نئے جرمن صدر منتخب ہو جائیں گے۔

کرسٹیان وولف کا مقابلہ دو دیگر صدارتی امیدواروں سے ہے، جن میں سے ایک ستر برس کی عمر کے سابقہ مشرقی جرمن پادری یوآخم گاؤک ہیں، جو اپوزیشن کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD اور ماحول پسندوں کی گرین پارٹی کے مشترکہ امیدوار ہیں۔

Angela Merkel Christian Wulff

کرسٹیان وولف کی صدارتی انتخابی امیدوار کے طور پر باقاعدہ نامزدگی کے موقع پر ان کی چانسلر میرکل کے ساتھ لی گئی ایک تصویر

تیسرے صدارتی امیدوار بائیں بازو کی لیفٹ پارٹی کے نامزد کردہ لُک یوخِمزن ہیں، جن کے بارے میں یہ بات قدرے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ انہیں صدر کا انتخاب کرنے والی وفاقی اسمبلی میں لیفٹ پارٹی کے کُل 124 ارکان کے علاوہ شاید ہی کسی دوسرے رکن کا ووٹ حاصل ہو اور یوں انہیں پورے ملک میں فیڈرل اسمبلی کے ارکان میں سے زیادہ سے زیادہ محض دس فیصد کی تائید حاصل ہو سکے گی۔

برلن میں موجودہ مخلوط حکومت کے صدارتی امیدوار 51 سالہ کرسٹیان وولف نے جرمن خبر ایجنسی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں مستقبل کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ بطور صدر اپنے انتخاب کی صورت میں ان کی کوشش ہو گی کہ وہ انتہائی کم ترقی یافتہ اور محرومی کے شکار براعظم افریقہ کو وہی توجہ دیں، جو ان کے مستعفی ہو جانے والے پیش رو ہورسٹ کوہلر دیا کرتے تھے۔

کرسٹیان وولف کے بقول جرمنی کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ جرمنی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی مزید گہرا بنایا جائے اور ایشیا کی اہم اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے طور پر چین اور بھارت کے ساتھ رابطوں پر بھی خاص طور پر توجہ دی جائے۔

اپنے اس انٹرویو میں چانسلر میرکل کی پارٹی کے صدارتی امیدوار وولف نے یہ بھی کہا کہ تاریخی حقائق کے پس منظر میں جرمنی پر اسرائیل کے بارے میں ایک بڑی اور مستقل ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور جرمنی میں ترک نسل کے تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد کے پیش نظر برلن کے ترکی کے ساتھ خصوصی تعلقات کی ضرورت اور اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: امجد علی

DW.COM