1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن شہر ميں نئے سال کی آمد پر آتش بازی ممنوع، مگر کيوں؟

مغربی جرمنی کے ايک چھوٹے سے شہر ميں نئے سال کی آمد کے موقع پر آتش بازی اور پٹاخے پھوڑنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ جنگ زدہ علاقوں سے پناہ کے ليے جرمنی آنے والے تارکين وطن پٹاخوں کی آوازيں سن کر ڈر نہ جائيں۔

جرمن رياست نارتھ رائن ويسٹ فاليا کے ايک شہر آرنسبرگ کے حکام نے متعدد زبانوں ميں ہدايات جاری کی ہيں کہ مہاجر کيمپوں ميں مقيم پناہ گزينوں کو آتش بازی کی اشياء فروخت نہ کی جائيں۔ يہ بات ايک سرکاری ترجمان نے ايک مقامی اخبار ’نوئے ويسٹ فالشے‘ کو بتائی۔ آرنسبرگ فائر بريگينڈ نے بھی شہر کے لوگوں کو مشورہ ديا ہے کہ وہ پناہ گزينوں کے دلوں ميں دوبارہ خوف اجاگر ہو جانے کی ممکنہ صورتحال سے بچنے کے ليے اس بار نئے سال کی آمد پر پٹاخوں وغيرہ سے پرہيز کريں۔

جرمنی اور دنيا کے کئی ديگر ملکوں ميں اکتيس دسمبر کی رات عين بارہ بجے يعنی نئے دن اور نئے سال آمد کے موقع پر خوشی کے اظہار کے ليے آتش بازی کی جاتی ہے۔ يکم جنوری کو دارالحکومت برلن کے معروف برانڈن برگ گيٹ پر ايک زبردست شو کا انعقاد ہوتا ہے، جسے ٹيلی وژن پر براہ راست نشر کيا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جرمنی ميں نئے سال کی آمد کے موقع پر ايسی آتش بازی پر تقريباً 120 ملین يورو خرچ کيے گئے تھے۔

آرنسبرگ کے سرکاری ترجمان کے حوالے سے بتايا گيا ہے کہ شورش زدہ خطوں سے آنے والے پناہ گزين عموماً اونچی آوازوں کو آتش بازی سے نہيں بلکہ اپنے تلخ تجربات کی وجہ سے بم دھماکوں سے جوڑتے ہيں۔ شہر ميں قائم مہاجر کيمپوں ميں اس اقدام کی وضاحت کے ليے اشتہاری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ اس فيصلے کی ايک اور وجہ يہ بھی ہے کہ کہیں آتش بازی کے بہانے مہاجر کيمپوں کو نذر آتش نہ کیا جائے۔

ملتے جلتے مندرجات