1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن شہر بوخم میں مہاجرین کا احتجاج

جرمن شہر بوخم میں پچاس پناہ گزین مردوں نے شہری انتظامیہ کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ یہ لوگ اپنے موجودہ مرکز سے کسی اور جگہ منتقل نہیں ہونا چاہتے۔

’’ہم مسائل میں اضافہ کرنا نہیں چاہتے بلکہ ہم انہیں حل کرنا چاہتے ہیں‘‘ یہ کہنا ہے شامی مہاجر محمد کا۔ وہ مزید کہتے ہیں، ’’ہم نے وہ جگہ دیکھی ہے، جہاں ہمیں منتقل کیا جا رہا ہے لیکن ہم یہیں رہنا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ پچاس مرد بوخم کے ایک اسپورٹس ہال میں اس وقت سے رہ رہے ہیں، جب یہ جرمنی آئے تھے۔ اس ہال کی دیواروں پر بورڈ نصب ہیں، جن پر تحریر ہے’’ہم بطور انسان اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔ یہ ہال ایک مقامی اسکول کا حصہ ہے اور اسے فوری طور پر تزئین و آرائش کی ضرورت بھی ہے۔ ان پناہ گزینوں کی وجہ سے وقفے کے دوران بچوں کو اس ہال کی بجائے باہر گراؤنڈ میں کھیلنا پڑتا ہے۔ اس دوران کئی پناہ گزین مرد ان بچوں کو دیکھتے ہیں اور اسپورٹس ہال کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے اور اسے بچوں کے لیے کوئی اچھا نظارہ نہیں کہا جا سکتا۔

ان پناہ گزینوں کے ترجمان محمد کے مطابق، ’’جب ہم مراکز میں آئے تو ہم سے کہا گیا کہ ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے، جس کے بعد لوگوں کو گھروں میں منتقل کیا جائے گا۔ پھر ہم سے کہا گیا کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا، جس سے ہم بہت مایوس ہوئے ہیں‘‘۔ بوخم شہر کے حکام ان تمام مردوں کو ایسے عارضی کیمپوں میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، جو خیموں سے بنائے گئے ہیں۔ ان کیمپوں میں زندگی گزارنا اس اسپورٹس ہال کے مقابلے میں قدرے مشکل ہے۔ اسی لیے یہ پناہ گزین مکانوں میں منتقل ہونا چاہتے ہیں، جہاں یہ لوگ اپنی مرضی سے کھانا پکا سکیں۔ یہ سب لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر جلد از جلد کام شروع کیا جائے۔

جہاں تک کسی مکان یا فلیٹ میں منتقل ہونے کی بات ہے تو اس بارے میں بوخم شہر میں بائیں بازو کی جماعت دی لنکے کے سیاست دان آمِد رابی کہتے ہیں کہ شہر میں مکان ملنا بہت ہی مشکل ہے، ’’اس سلسلے میں شہری انتظامیہ سے بات چیت کرنا کسی مصیبت سے کم نہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ مہاجرین کی بات نہیں مانی جائے گی کیونکہ حکام کے پاس کو متبادل موجود نہیں ہے، ’’ میرے خیال میں یہ کوئی جمہوری طرز عمل نہیں ہے۔‘‘بوخم انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان پچاس مہاجرین سے کسی قسم کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔