1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن شہری اپنے ہی ملک میں خود کو کتنا محفوظ سمجھتے ہیں؟

حال ہی میں کرائے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق ایک چوتھائی جرمن شہری خود کو محفوظ سمجھتے ہیں لیکن جرمن شہریوں کی بڑی تعداد اب اپنے ہی ملک کی گلیوں اور پارکوں میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ایک جرمن میگزین ’پینوراما‘ کے لیے کیے گئے ایک سروے کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک چوتھائی جرمن شہری شاہراہوں، پارکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی مقامات پر خود کو محفوظ یا بہت محفوظ سمجھتے ہیں تاہم جائزے کے مطابق جرمن شہریوں، خاص طور پر خواتین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

شمالی جرمن شہر ہیمبرگ کے عوامی نشریاتی ادارے این ڈی آر نے ’پینوراما‘ میگزین کے لیے کیے گئے ایک عوامی جائزے کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کی نسبت قریب ایک تہائی جرمن خواتین خود کو عوامی مقامات پر محفوظ نہیں سمجھتیں۔

سروے کے مطابق ستائیس فیصد سے زائد جرمن خواتین کا کہنا تھا کہ وہ خود کو غیر محفوظ یا انتہائی غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ ان خواتین میں سے باسٹھ فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ وہ کچھ خاص شاہراہوں، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر بالخصوص شام کے اوقات میں زیادہ غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ ان باسٹھ فیصد میں سے ایک تہائی خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان میں عدم تحفظ کا احساس گزشتہ دو برسوں سے پایا جاتا ہے۔

اس تازہ عوامی جائزے میں ایک اور بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ تیرہ فیصد جرمن خواتین ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنے ہمراہ مرچوں والا اسپرے (pepper spray) رکھتی ہیں۔ ایسی خواتین میں سے پینسٹھ فیصد خواتین نے بتایا کہ وہ یہ اسپرے پچھلے دو برسوں سے اپنے ساتھ رکھتی ہیں۔

جائزے کے دوران یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا جرمن شہری کسی خاص گروہ کے باعث خوفزدہ ہیں تو ایک نصف سے کچھ زائد نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ کسی خاص گروہ سے خائف ہیں۔ تاہم سینتالیس فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ خاص قسم کے لوگوں کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں سے ایک تہائی سے زائد افراد نے کہا کہ وہ غیر ملکیوں اور مہاجرین کی وجہ سے عوامی مقامات پر خود کو شدید غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

افراٹیسٹ نامی ادارے کی جانب سے کیے گئے اس عوامی جائزے میں اٹھارہ برس سے زائد عمر کے 1012 جرمن زبان بولنے والوں نے حصہ لیا۔ یہ سروے ٹیلی فون کے ذریعے 24 جنوری سے لے کر 26 جنوری تک کیا گیا۔

جرمنی: طیارے آدھے خالی، مہاجرین کی ملک بدری میں مشکلات حائل

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

Audios and videos on the topic