1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جرمن شہری اشیائے خورد و نوش کا ذخیرہ کر لیں‘

رواں ہفتے جرمن کابینہ میں شہری دفاع کے ایک منصوبے کو زیر بحث لایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت جرمن شہریوں کو کسی بھی ناگہانی آفت یا ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری اشیائے خورد نوش ذخیرہ کرنے کو کہا جائے گا۔

Deutschland Angela Merkel Regierungserklärung in Berlin

رواں ہفتے جرمن کابینہ میں شہری دفاعی منصوبے پر بحث کی جائے گی

منصوبے کی رو سے جرمن باشندوں کو کسی بھی ایسے غیر متوقع واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جو جرمن قوم کی بقاء کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ جرمن اخبار ’ فرانکفرٹر الگمائینے زونٹاگ سائیٹنگ ‘ اپنی اتوار کی اشاعت میں لکھتا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے یہ پہلی بار ہے جب جرمن حکومت اپنے شہریوں کو کسی بڑی آفت یا مسلح حملے کے خطرے کے پیش نظر اشیائے خورد و نوش اور دیگر ضرورت کا سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایت کرے گی۔

اخبار نے جرمن حکومت کے شہری دفاع کے منصوبے پر رواں ہفتے بدھ کے روز کابینہ میں ہونے والی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کو دس روز کے لیے خوراک اور پانچ روز کے لیے پینے کا پانی ذخیرہ کرنے کو کہے گی۔ شہری دفاع کی حکمت عملی کے تحت جرمن شہریوں کو خاطر خواہ مقدار میں پانی، خوراک، توانائی، پیسوں اور دواؤں کا ذخیرہ کرنے کے لیے کہا جائے گا تاکہ کسی آفت یا حملے کی صورت میں شہریوں کے پاس اس وقت تک اپنی ضرورت کا سامان موجود ہو، جب تک ریاست اس ممکنہ آفت سے نمٹنے کے قابل نہ ہو جائے۔

Logo der Frankfurter Allgemeine Sonntagszeitung

فرانکفرٹر الگمائینے سائیٹنگ نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جرمن شہریوں کو کسی بھی غیر یقینی صورت حال سے نمٹنے کے تیار رہنا چاہیے

جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس منصوبے کے مندرجات پر فی الحال کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ انہتر صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی پر کسی مسلح حملے کا کوئی امکان نہیں تاہم فرانکفرٹر الگمائینے سائیٹنگ نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جرمن شہریوں کو مستقبل میں پیش آنے والی ایسی کسی بھی غیر یقینی صورت حال سے نمٹنے کے تیار رہنا چاہیے جس سے جرمنوں کی بقاء کو خطرہ لاحق ہو۔ شہری دفاع کی حکمت عملی کی تیاری کی ہدایت بنیادی طور پر سن دو ہزار بارہ میں ایک پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے دی گئی تھی تاہم اس کی اشاعت ملک میں ہونے والے حالیہ سکیورٹی اقدامات کا نتیجہ ہے۔

DW.COM