1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمنی اور جرمن

جرمن شہريوں پر ٹيکس کا بوجھ

بين الاقوامی موازنے کے اعتبار سے جرمنی اُن ممالک ميں شمار ہوتا ہے، جہاں انکم ٹيکس اور دوسرے ٹيکس نسبتاً کم ہيں۔ ليکن اُن جوڑوں پر انکم ٹيکس کا بوجھ اوسط سے زيادہ ہے، جن کے بچے بھی ہيں۔

default

بعض خوشحال جرمن شہری بخوشی اُس سے زيادہ انکم ٹيکس دينے کے ليے تيار ہيں، جتنا کہ اس وقت اُن سے وصول کيا جا رہا ہے۔

 جرمنی ميں ٹيکس کی سب سے اونچی حد 42 فيصد ہے۔ يہ ٹيکس 53000  يورو سالانہ ٹيکس کے قابل آمدنی پر کاٹا جاتا ہے۔ اگر اخراجات منہا کرنے کے بعد ٹيکس کے قابل آمدنی ڈھائی لاکھ يورو سالانہ ہو تو پھر مزيد تين فيصد انکم ٹيکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ بحيرہء بالٹک کے بعض ممالک ميں انکم ٹيکس کی شرح 22 فيصد کے لگ بھگ ہے۔ اسکينڈے نيويا کے چند ممالک ميں انکم ٹيکس کی شرح 50 فيصد سے بھی زيادہ ہے۔ ليکن جرمن ٹيکس دہندگان کی ايسوسی ايشن کی ماہر قانون ايزابيل کلوکے نے کہا کہ ان اعداد و شمار کا بغور جائزہ لينا ضروری ہے کيونکہ آمدنی کے جس حصے پر انکم ٹيکس لگايا جاتا ہے، اس سے متعلق مختلف ممالک کے آپنے ضوابط ہيں۔

برلن ميں ٹيکس دہندگان کے قرضے ظاہر کرنے والی گھڑی

برلن ميں ٹيکس دہندگان کے قرضے ظاہر کرنے والی گھڑی

جرمنی ميں کاروباری لوگ اپنے ذريعہء معاش سے منسلک اخراجات کو منہا کر کے انکم ٹيکس دفتر ميں پيش کی جانے والی اپنی آمدنی کو گھٹا کر پيش کرسکتے ہيں۔ اس کے علاوہ نجی وجوہات کے باعث اضافی اخراجات کو بھی منہا کيا جا سکتا ہے، مثلاً گھرانے کے کسی مستقل طور پر بيمارفرد کی ديکھ بھال کے اخراجات۔ يہ اخراجات ملازمت پيشہ افراد بھی اپنی آمدنی سے منہا کر سکتے ہيں۔ اسی طًرح بعض خصوصی اخراجات، جائے ملازمت تک آنے جانے کے خرچ اور ملازمت سے منسلک اخراجات کو بھی آمدنی سے نکالا جا سکتا ہے۔ اس طرح، ان تمام اخراجات کو بالکل جائز طور پرمنہا کرنے کے بعد انکم ٹيکس کے قابل جو آمدنی بچتی ہے، وہ اصل آمدنی سے کافی کم ہو سکتی ہے۔

جرمنی کے ٹيکس کے قوانين کو دنيا ميں سب سے زيادہ ضوابط والا ٹيکس نظام کہا جا سکتا ہے۔ ان ميں اُن افراد کے ليے استثنائی اور خصوصی ضوابط بھی شامل ہيں، جنہيں مختلف وجوہات کی بناء پر خصوصی اور اضافی مالی بوجھ کا سامنا ہو۔ اس ٹيکس نظام ميں مخصوص پيشوں، طلبا، جزوقتی ملازمين اورغيرمستقل ملازمت کرنے والوں کے ليے لا تعداد ضوابط ہيں۔ ٹيکس دہندگان کی وفاقی جرمن ايسوسی ايشن کی ايزابيل کلوکے کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ تاريخی بھی ہے۔ اس کے علاوہ سال ميں کئی مرتبہ نئے ٹيکس قوانين بھی وضع کيے جاتے رہتے ہيں۔ يورپی عدالت اور مختلف انتظامی اداروں کی طرف سے موصول ہونے والے بہت سے دوسرے ضوابط بھی ٹيکس کے قواعد ميں شامل ہوتے رہتے ہيں۔

ڈاکٹر ازابيل کلوکے

ڈاکٹر ازابيل کلوکے

 جرمنی ميں انکم ٹيکس آجرادارے تنخواہوں سے کاٹ کر براہ راست انکم ٹيکس آفس کو منتقل کر ديتے ہيں۔ اپنا ذاتی کاروبار کرنے والے لوگ سال کی ہرچوتھائی کے ليے اپنا ٹيکس پيشگی طور پر انکم ٹيکس کے دفتر ميں جمع کراتے ہيں۔ جرمن شہريوں پر ٹيکس کے مجموعی بوجھ ميں ويليو ايڈڈ ٹيکس يا سيلز ٹيکس کا ايک خاص حصہ ہے۔ اس وقت جرمنی ميں اس ٹيکس کی شرح تمام اشياء اور خدمات پر 19 فيصد اور اشيائے خورد و نوش پر سات فيصد ہے۔ اس طرح آمدنی پر لگائے جانے والے تمام ٹيکسوں اور محصولات کی شرح فی الوقت 51 فيصد ہے، يعنی آمدنی کا آدھے سے بھی زيادہ حصہ رياست کی مختلف جيبوں ميں چلا جاتا ہے۔ ٹيکس دہندگان کی وفاقی ايسوسی ايشن نے حساب لگايا ہے کہ ايک ٹيکس دہندہ شہری کو سال ميں جولائی کے مہينے تک صرف رياستی خزانے کو پُر کرنے کے ليے کام کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ: ماتھياس ہيل فيلڈ / شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی

 

DW.COM