1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ

جرمن سیاسی جماعت ایس پی ڈی نے ایک ہفتہ قبل مارٹن شلس کو اپنا نیا لیڈر مقرر کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد پارٹی کی مقبولیت میں حیران کن تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ ایس پی ڈی کی عوامی تائید میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

Deutschland Martin Schulz und Angela Merkel (picture alliance/dpa/O. Hoslet)

ایس پی ڈی کے لیڈر مارٹن شلس اور چانسلر انگیلا میرکل

رواں برس ستمبر میں ہونے والے انتخابات کی انتخابی مہم کے باضابطہ طور پر شروع ہونے سے قبل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی عوامی مقبولیت میں حیران کن اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اتوار، پانچ فروری کو رائے عامہ کے جائزے کے مطابق اس وقت ایس پی ڈی کی عوامی حمایت 29 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتہ قبل یہ 23 فیصد تھی اور ایک ہفتے کے دوران اس میں چھ پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

 دوسری جانب چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یُو کی مقبولیت 33 فیصد ہے۔ جرمن اخبار بِلڈ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ایس پی ڈی اور سی ڈی یو کے درمیان عوامی حمایت کا فرق چودہ پوائنٹس سے کم ہو کر محض چار پوائنٹس پر آ گیا ہے۔ جولائی سن 2012 کے بعد دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ کم ترین فرق ہے۔ ایس پی ڈی کے سابق لیڈر زیگمار گابریل کے دور میں اس جماعت کی مقبولیت گھٹتے گھٹتے بیس فیصد سے بھی کم ہو کر رہ گئی تھی۔

Deutschland Martin Schulz und Angela Merkel (picture alliance/dpa/U. Baumgarten)

رواں برس کے الیکشن کو چانسلر میرکل انتہائی مشکل قرار دے چکی ہیں

ایس پی ڈی کی جانب سے یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر مارٹن شلس کو اپنا نیا لیڈر مقرر کرنے کے بعد سے اِس جماعت کو مسلسل عوامی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مارٹن شلس کو جس طرح سارے یورپ میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، وہی احترام اب جرمن عوام نے بھی ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔

جرمن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ جس جذباتی انداز میں مارٹن شلس عوام کو اپنی جانب راغب کر رہے ہیں، اُس سے وہ اپنی سیاسی جماعت کی گم شدہ عوامی مقبولیت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ صرف ایک آدمی اتنی بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے، یہ حقیقتاً ایک حیران کن عمل ہے۔

مارٹن شلس نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے ساتھ انٹرویوز اور سیاسی بیانات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے جرمنی کے اندر پیدا ہونے والی تقسیم سے عوامیت پسندی کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ شلس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اگر میرکل سے اُن کا براہ راست مقابلہ ہو تو اُن کی عوامی پسندیدگی چانسلر کی اکتالیس فیصد کے مقابلے میں ستاون فیصد ہے۔