1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن سفارتخانے نے ویزے جاری کرنے کا سلسلہ ملتوی کر دیا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چند ہفتے پہلے خونریز ٹرک بم حملے کے بعد سے بند جرمن سفارتخانے نے اب اعلان کر دیا ہے که ویزے کے حصول کے خواہش مند افغان شہری نئی دہلی، استنبول یا پهر دبئی میں ان سے رجوع کریں۔

جرمن وزارت خارجہ کے اس فیصلے نے افغان دارالحکومت میں جرمن سفارتخانے کے جلد دوباره فعال نه ہونے سے متعلق تشویش اور خدشات کو جنم دیا ہے۔ سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعلان کے مطابق جرمن سفارت خانے کا ویزہ سیکشن غیر معینه مدت تک کے لیے بند رہے  گا۔

 اعلان میں مزید کہا گیا ہے  که جرمن دفتر خارجه اس کوشش میں مصروف ہے  که جلد ہی اسلام آباد اور دوشنبے (تاجکستان) کے جرمن سفارتخانوں میں بهی افغان شہریوں کے لیے  شینگن ویزه کے اجرا کا انتظام ممکن بنایا جاسکے۔

رواں برس اکتیس مئی کو پانی کے ایک ٹینکر میں بارود بهر کر سفارتی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور جرمن سفارتخانے کے قریب دهماکا کر دیا گیا تھا۔ اس حملے میں 150 سے زائد افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور جرمن سفارتخانے کے ساتھ ساتھ متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

Afghanistan | beschädigte deutsche Botschaft in Kabul (Reuters/M. Ismail)

پانی کے ایک ٹینکر میں بارود بهر کر سفارتی علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے اور جرمن سفارتخانے کے قریب دهماکا کر دیا گیا تھا

اس حملے کے بعد سے جرمن سفارت خانه بند ہے اور یوں افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد الجھن کی شکار ہے۔ جرمن ویزے کی درخواست دینے والے محمد ظاہر ان ہی  افراد میں سے ایک ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا که ساری پیشه ورانه زندگی جرمنی میں گزارنے کے بعد وه واپس کابل آبسے ہیں لیکن مالی امور کی وجه سے انہیں ہر برس کم از کم ایک مرتبه جرمنی جانا پڑتا ہے، ’’اس سلسلے کو ختم کرنے اور مالی امور افغانستان منتقل کرنے کے لیے میں اکتیس مئی کو جرمن سفارتخانے جا رہا تها که راستے میں پته چلا وہاں دهماکا ہوا ہے، تب سے سفارت خانه بھی بند ہے اور میرے سارے کام بھی الجھ گئے ہیں۔‘‘

سفارت کے اعلامیے کے مطابق،  ’’جن افراد نے ٹرک حملے سے قبل ویزے کے لیے درخواستیں دیں تهیں، وه صبر سے کام لیں کیونکه ان کی درخواستیں برلن میں دفتر خارجه میں زیر غور ہیں۔‘‘ افغانستان میں مقیم جرمن شہریوں کو مطلع کیا گیا ہے که وه ایمرجنسی حالات میں کسی بھی یورپی سفارت خانے سے رابطه کر سکتے ہیں اور اسلام آباد کا جرمن سفارت خانه ان کے لیے ’’پاسپورٹ آفس‘‘ کے طور پر تیار کر دیا گیا ہے۔

افغانستان کی پارلیمان نے سفارت خانے کی غیر معینه مدت کے لیے بندش پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان کے ولسی جرگه (ایوان زیریں) میں خارجه امور کی کمیٹی کے سربراه نادر خان کٹوازی کے بقول افغان وزارت خارجه یہ معاملہ جرمن حکام کے ساتھ اٹهانا چاہی ہے تاکه شہریوں کی سہولت کے لیے جلد از جلد ایک راه حل نکالی جائے۔‘‘

واضح رہے  که جرمنی کے اس حالیه اقدام سے قبل بھی متعدد ممالک افغانستان میں ویزے کا اجرا بند کر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر افغان شہری برطانوی ویزے کے حصول کے لیے بهارت، پاکستان یا پهر کسی دوسرے نزدیک کے ملک میں برٹش سفارتخانے سے رجوع کرتے ہیں۔ برلن حکومت کے اس اقدام سے اب ایسی تشویش بڑھ گئی ہے که شاید اور سفارتی مشن بهی جرمنی کی پیروی کرتے ہوئے بدامنی کو وجه بنا کر ویزے کے اجرا کا عمل یہاں سے دوسری جگه منتقل کر دیں۔