1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن سر زمین سے امریکی جوہری ہتھیار ہٹا دیں گے، مارٹن شُلس

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے حریف امیدوار اور اعتدال پسند بائیں بازو کی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مارٹِن شُلس نے کہا ہے کہ اگر وہ چانسلر بن گئے تو وہ جرمن سر زمین پر موجود امریکی جوہری ہتھیار ہٹا دیں گے۔

جرمنی کے جنوب مغربی شہر ٹریئر میں منگل بائیس اگست کو ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی ڈی کے سربراہ مارٹن شُلس کا کہنا تھا، ’’وفاقی جمہوریہ جرمنی کے چانسلر کے طور پر میں جرمنی میں موجود جوہری ہتھیاروں کو ہٹائے جانے کی کوشش کروں گا۔‘‘

رپورٹس کے مطابق کولون کے جنوب میں واقع  بوئشیل کی ملٹری بیس پر امریکا نے گزشتہ کئی دہائیوں سے 20 کے قریب جوہری ہتھیار اسٹور کیے ہوئے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق تاہم اس بات کی تصدیق جرمن وزارت دفاع کی جانب سے کبھی نہیں کی گئی۔

شُلس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ’اسحلے کے چکر کو‘ بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازعے سے یہ بات پہلے سے بھی زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو فوری طور پر روکا جائے اور جن کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں انہیں ان کی مقدار میں کمی کی ترغیب دی جائے۔

آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں چانسلر کے عہدے کے لیے انگیلا میرکل کے حریف امیدوار مارٹن شلس کے مطابق میرکل جرمن فوج کو جدید بنانے کے لیے 30 بلین یورو خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں اور اس کا مقصد نیٹو کے اُس ہدف پر پورا اترنا ہے، جو دفاعی بجٹ پر مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد خرچ کرنے سے متعلق ہے۔ ٹرمپ مسلسل یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ نیٹو پارٹنرز اس دفاعی اتحاد کے لیے اپنا حصہ ادا نہیں کر رہے۔

Fliegerhorst Büchel Atomwaffenstationierung USA Eifel Flash-Galerie (picture alliance/dpa)

رپورٹس کے مطابق کولون کے جنوب میں واقع  بوئشیل کی ملٹری بیس پر امریکا نے گزشتہ کئی دہائیوں سے 20 کے قریب جوہری ہتھیار اسٹور کیے ہوئے ہیں

تازہ انتخابی جائزوں کے مطابق میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کو 38 فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے  جبکہ ان کی قریب ترین حریف جماعت ایس پی ڈی کو 24 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ جرمنی کی یہ دونوں بڑی جماعتیں جو اس وقت ایک بڑے اتحاد کو حصہ ہیں، انہیں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ممکنہ طور پر الگ الگ اتحاد بنانے پڑیں گے۔