1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمن سرحد سے ہی مہاجرین کی بڑی تعداد کو لوٹایا جا رہا ہے‘

جرمنی کی سرحدوں سے براہ راست واپس بھیجے جانے والے افراد کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس کہیں زیادہ ہے۔ کیا اب مہاجرین کے لیے جرمن سرحد ویسے کھلی نہیں، جیسے گزشتہ برس تھی۔

شمالی جرمن شہر اوسنابروک کے ایک اخبار ’نوئے اوسنابروک سائٹنگ‘ کے مطابق رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں تیرہ ہزار تین سو 24 مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روکا گیا، جب کہ گزشتہ پورے برس میں یہ تعداد آٹھ ہزار نو سو تیرہ تھی۔

اخبار کے مطابق ان افراد کو جرمنی کی زمینی سرحدوں یا ہوائی اڈوں سے ملک بدر کیا گیا۔ جرمن حکومت کی جانب سے پارلیمان میں بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت ’ لنکے‘ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال پر بتائی گی۔ اخبار کے مطابق مہاجرین کو ملک میں داخل نہ ہونے دینے کے اعتبار سے گزشتہ برس کے مقابلے میں یہ عرصہ نصف مگر تعداد قریب دوگنی ہے۔

گزشتہ برس ستمبر میں مہاجرین کے بحران کے سخت ترین وقت میں جرمن حکومت نے اپنی سرحدوں پر چیکنگ کا نظام دوبارہ شروع کیا تھا اور خصوصاﹰ اس نظام کا اطلاق آسٹریا کی سرحد پر کیا گیا تھا۔ یہی وہ راستہ ہے، جس کے ذریعے گزشتہ برس ایک ملین سے زائد افراد جرمنی میں داخل ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد شامی اور عراقی مہاجرین کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ رواں برس کے پچھلے چھ ماہ میں صرف آسٹریا کی سرحد سے دس ہزار چھ سو 29 مہاجرین کو جرمنی میں داخل ہونے سے روکا گیا اور یہ تعداد گزشتہ پورے برس میں ملک میں داخل ہونے سے روکے جانے والے افراد سے زیادہ ہے۔

Deutschland Grenzkontrollen in Lichtenbusch

جرمنی نے گزشتہ برس کے مقابلے میں اپنی سرحد پر چیکنگ میں اضافہ کیا ہے

جرمن حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں داخل ہونے سے جن افراد کو روکا گیا، انہیں ہوائی جہازوں کے ذریعے دوسرے ممالک پہنچایا گیا۔

حکومتی بیان کے مطابق رواں برس بھی جرمنی میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن میں سے 75 فیصد نے بلقان کا راستہ استعمال کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ملک میں داخلے سے روکے جانے والے افراد میں سے 166 کا تعلق شمالی افریقہ کے مغرب ریجن سے تھا۔ حکومتی بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جرمنی سے رضاکارانہ طور پر اپنے اپنے ممالک واپس لوٹنے والے افراد کی تعداد رواں برس کے پہلے چھ ماہ میں تیس ہزار پانچ سو 53 رہی ہے، ان میں سب سے بڑی تعداد البانوی باشندوں کی تھی۔ اس کے علاوہ عراق واپس لوٹنے والے افراد کی تعداد تین ہزار تین سو 22 جب کہ رضاکارانہ طور پر واپس لوٹنے والے افغان باشندوں کی تعداد دو ہزار تین سو پانچ تھی۔