1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن زبان بھی سیکھیے اور ہنر بھی، مہاجرین کے لیے خصوصی کورسز

جرمنی میں مہاجرین کو روز مرہ کے معمولات اور ملازمتوں کے حصول کے لیے درکار تربیت فراہم کرنے کے لیے مہاجرین کو خصوصی ’کومبی کورس‘ کرائے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت جرمنی میں ہزاروں مہاجرین تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

وفاقی جرمن دفتر روزگار کے سربراہ ڈیٹلیف شیلے کے مطابق جرمنی آنے والے مہاجرین کو جرمن زبان اور ہنر سکھانے کے لیے تیار کردہ خصوصی ’کومبی کورسز‘ کرائے جا رہے ہیں۔ شیلے کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے سے لے کر اب تک اس پروگرام کے تحت اکیس ہزار سے زائد مہاجرین کو تربیت فراہم کی گئی ہے۔

وہ جرمن شہر، جہاں مہاجرین کو گھر بھی ملتا ہے اور روزگار بھی

جرمنی میں کم پڑھے لکھے مہاجرین کے لیے مشکلات زیادہ

جرمنی میں روز مرہ کے معمولات کے لیے بھی جرمن زبان سے واقفیت ناگزیر ہے اور مہاجرین کو ملازمتوں کے حصول میں بھی جرمن زبان سے ناواقفیت آڑے آتی ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی آنے والے مہاجرین کو کوئی نا کوئی ہنر سیکھنے کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:47

کیا تارکین وطن کو جرمنی آتے ہی ملازمت مل جاتی ہے؟

اسی وجہ سے ان دونوں پہلوؤں کو یکجا کرتے ہوئے ملازمتوں کے وفاقی جرمن دفتر نے مہاجرین کے لیے خصوصی ’کومبی کورسز‘ شروع کر رکھے ہیں جن میں زبان سکھانے کے علاوہ ووکیشنل ٹریننگ بھی فراہم کی جاتی ہے۔

شیلے کے مطابق اس پرگرام کے تحت تینتالیس ہزار مہاجرین کو فنی تربیت فراہم کی جانا تھی۔ تاہم گزشتہ برس اکتوبر سے لے کر اب تک اکیس ہزار سے کچھ زائد مہاجرین ہی ان پرگراموں میں رجسٹر کیے گئے۔ شیلے کا کہنا ہے کہ خصوصی تربیتی پروگرام میں مہاجرین کی رجسٹریشن کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ دیگر اداروں کی جانب سے مہاجرین کے لیے تیار کردہ تربیتی پروگراموں میں باہمی ربط کی کمی ہے۔

شیلے کی مراد وفاقی جرمن ادارہ برائے مہاجرت و ترک وطن کی جانب سے مہاجرین کے لیے تیار کردہ ’سماجی انضمام کے پروگرام‘ اور جاب سینٹر کی جانب سے مہاجرین کی فنی تربیت کے لیے جاری پروگرام ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں شیلے نے کہا تھا کہ وفاقی جرمن دفتر روزگار کا تیار کردہ ’کومبی کورس‘ ملک میں موجود مہاجرین کو جرمنی میں نئی زندگی شروع کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ تاہم اب تک اس پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والے مہاجرین کی تعداد ان کی توقع سے کافی کم رہی ہے۔

جرمنی میں بھی مہاجرین کی قیمتی اشیاء اور نقد رقم ضبط

آسٹریا: پناہ کے متلاشیوں میں شامی، افغان اور پاکستانی نمایاں

DW.COM

Audios and videos on the topic