1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن دفاعی برآمدات اور پاکستان

وفاقی جرمن حکومت کو ان دنوں اپنے خلاف بین الا قوامی سطح پر اسلحہ بندی کے مخالف جرمن حلقوں کی طرف سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ ہتھیاروں کی برآمدات کے سلسلے میں اپنے ہی بنیادی اصولوں کی نفی کررہی ہے۔

default

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی

جرمنی میں وفاقی حکومت کے خلاف یہ الزام کوئی بار بار سنائی دینے والا دعویٰ نہیں ہے کہ حکومت جنگی سازوسامان کی برآمد کے سلسلے میں اپنے ہی طے کردہ ضابطوں کی خلاف ورزی کی مرتکب ہور ہی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد بون میں روائتی ہتھیاروں کے خاتمے کے بین الاقوامی مرکز BICC کے چند ماہرین نے یہ دعوے کئے کہ برلن حکومت کے ہتھیاروں کی برآمدات سے متعلق فیصلے شفاف نہیں ہیں۔ اس دعوے کے حق میں مثال یہ دی گئی کہ جرمنی پاکستان کو آبدوزیں فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس اقدام سے جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے مابین اسلحہ بندی کی دوڑ کم ہونے کی بجائے زیادہ ہو جائے گی۔

Aussenminister Frank-Walter Steinmeier in Pakistan

جرمن وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں پاکستانی صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی

ان دعووں کے بعد جرمن ذرائع ابلاغ میں ایک باقاعدہ بحث شروع ہو گئی کہ آیا حکومت ہتھیاروں کی برآمد سے متعلق اپنے ہی طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کررہی ہے اور یہ کہ کیا عنقریب ہی پاکستان کو جرمن آبدوزیں مہیا کردی جائیں گی۔ اس سلسلے میں برلن کی مخلوط حکومت میں شامل جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی دفاعی امور سے متعلق سیاست کے ترجمان اور پارلیمانی رکن Rolf Mützenich نے جرمن ٹیلی ویژن پر اپنے ایک انٹرویو میں ایسے کسی ممکنہ معاہدے کے مناسب ہونے کے حوالے سے کہا کہ ایسا کوئی بھی اقدام بہت ذمے دارانہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ مہینوں کے دوران انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے تو کئی مرتبہ اس امر کی طرف توجہ بھی دلائی ہے کہ جنوبی ایشیا میں دراصل اسلحہ بندی پر کنٹرول کا عمل شروع ہونا چاہیے۔

Aussenminister Frank-Walter Steinmeier in Pakistan | Freies Bildformat

اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کے دفتر میں جرمن وزیر خارجہ پریس کانفرنس کے دوران

جرمن حکومت کی اسلحہ کی برآمدات کی منظوری سے متعلق مبینہ طور پر غیر شفاف سیاست ہی کے بارے میں ماحول پسندوں کی گرینز پارٹی کے دفاعی امور کے ترجمان اور وفاقی پارلیمان کے رکن ونفریڈ ناخت وائی نے کہا کہ پاکستان کو جرمن آبدوزیں اس لئے فراہم نہیں کی جانا چاہیئں کہ جنوبی ایشیا کا پورا خطہ پہلے ہی اسلحہ بندی کی دوڑ کا شکار ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق برلن حکومت پاکستان کو یہ آبدوزیں مہیا کرنے کی سوچ پر عمل درآمد فی الحال روک چکی ہے۔ گرینز پارٹی کے رکن پارلیمان ونفریڈ ناخت وائی کے بقول پاکستان کا نظام ایسا ہے کہ وہاں فوج واضح طور پر ناقابل بھروسہ ہے۔

اسی موضوع پر جمعہ کے روز برلن میں جرمن وزارت اقتصادیات کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو جرمن آبدوزوں کی ممکنہ برآمد کے موضوع پر گذشتہ کافی عرصے سے کوئی نئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی اور آئندہ اگر ایسی کوئی درخواست دی گئی تو جرمن حکومت اس بارے میں اپنا کوئی بھی فیصلہ حسب معمول پارلیمان اور ریاست کی سطح پر آئینی اداروں کے ذریعے ہی کرے گی۔