1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’جرمن خفیہ ادارے نے منظم طریقے سے قواعد و ضوابط توڑے ہیں‘

جرمنی کے ڈیٹا پروٹیکشن شعبے کی محتسب نے کہا ہے کہ ملکی خفیہ ایجنسی نے قانون کے منافی کارروائیاں کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جرمن خفیہ ادارہ نے فریڈم آف انفارمیشن کے ضوابط کو بھی توڑا ہے۔

جرمنی کے خفیہ ادارے بی این ڈی (BND) کے بارے میں رپورٹ ڈیٹا پروٹیکشن اور معلومات کی آزادی کی کمشنر اندریا ووسہوف نے مرتب کی ہے۔ رپورٹ میں ووسہوف نے خفیہ ادارے کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اُس کی کئی کارروائیوں کی مذمت کی۔ رواں برس مارچ میں چھپنے والی ساٹھ صفحے پر مشتمل خفیہ رپورٹ کے مندرجات جرمن ٹیلی وژن این ڈی آر نے جمعرات کے روز اپنے ایک نشریے میں عام کیے۔

معلومات کے تحفظ اور رسائی کی جرمن محتسب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بغیر کسی فانونی بنیاد کے بی این ڈی نے ایک منظم انداز میں عام لوگوں کی ذاتی معلومات حاصل کیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رپورٹ جہاں بےپناہ وسعت رکھتی ہے وہیں خفیہ ادارے کی کارروائیوں کی مذمت بھی ہے۔ ٹیلی وژن ادارے این ڈی آر کے مطابق ووسہوف نے رپورٹ میں بی این ڈی کی نگرانی کی بعض کارروائیوں کے لیے ’غیرقانونی‘ (Unlawful) کا لفظ کم از کم تیس مرتبہ استعمال کیا ہے۔

Bundesnachrichtendienstes (BND) Andrea Voßhoff

ڈیٹا پروٹیکشن اور معلومات کی آزادی کی کمشنر اندریا ووسہوف

اندریا ووسہوف نے اپنی رپورٹ میں شکایت کے انداز میں بیان کیا کہ خفیہ ادارے نے انہیں اِس رپورٹ کو مرتب کرنے سے باز رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ خاتون کمشنر کے مطابق ایسا کر کے ملکی خفیہ ادارے نے اُس مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا، جس کے تحت ان کو ڈیٹا پروٹیکشن کے کمشنر کا منصب سونپا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خفیہ ایجنٹوں نے اُن کا پیچھا اُس وقت چھوڑا جب انہہیں یقین دلایا گیا کہ وہ ادارے کے امور پر نظرِثانی کر رہی ہیں۔

ووسہوف نے واشگاف انداز میں بیان کیا کہ بی این ڈے نے غیر قانونی انداز میں اُن کے امور کو وسیع پیمانے پر کنٹرول کرنے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی۔ رپورٹ میں خاتون کمشنر نے اعتراف کیا کہ بی این ڈی کی رکاوٹوں کی وجہ سے ایک جامع اور مؤثر جائزہ مرتب کرنے سے وہ قاصر رہیں ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو قانون کی کھلی خلاف ورزیاں قرار دیا۔

انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ بی این ڈی اُس وقت تعاون سے دور ہو جاتی تھی جب یہ پوچھا گیا کہ منتخب افراد کے بارے میں اُس نے معلومات امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی سے کیوں حاصل کی تھیں۔ جرمن نیوز میگزین ڈیئر اشپیگل کا کہنا ہے کہ خفیہ ادارے کے پاس ہزار ہا منتخب افراد کی معلومات اور ٹیلی فون نمبر ہیں۔ ووسہوف کے مطابق ایک مرتبہ اسپاٹ چیکنگ پر انہیں معلوم ہوا کہ جرمن خفیہ ادارے نے بغیر کسی وجہ کے پندرہ معصوم لوگوں کی ذاتی معلومات اور ٹیلی فون نمبر جمع کر لیے تھے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ خفیہ ادارے کو ہدایت کی جائے کہ وہ ایسی غیرقانونی کارروائیوں کا ارتکاب فوری طور پر بند کر دے۔

DW.COM