1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن خارجہ پالیسی: گزشتہ چار برس کا جائزہ

نومبر 2005ء میں انگیلا میرکل نے جرمن چانسلر کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت جی ایٹ اور یورپی یونین کی سربراہی جرمنی کی منتظر تھی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے۔ یعنی میرکل کی وزرات خارجہ کے لئے متعدد چیلنجز!

default

میرکل نے اپنے وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ ان معاملات کو احسن طریقے سے حل کرنے کے لئے ذمہ داریاں بانٹ لیں۔ گزشتہ چار برس میں جرمنی کی خارجہ سیاست کس حد تک کامیاب رہی ؟

انگیلا میرکل نے چانسلر کے دفتر میں قدم رکھا تو خارجہ پالیسی ان کے لئے سب سے اہم تھی۔ خاص طور پر جرمنی اور امریکہ کے باہمی تعلقات، جو سابق امریکی صدر جارج بش اور سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شرؤڈر کے دور میں سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔ ان تعلقات میں خرابی کی وجہ عراق کی جنگ تھی۔ شرؤڈو نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ چانسلر بنتے ہی میرکل نے صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش شروع کردیں۔

Hu Jintao Besuch in Deutschland Gerhard Schröder

سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شرؤڈر

اگر کسی بھی موضوع پرکوئی مسئلہ ہے یا سوال ہے تو اس پر ہم بحث کریں گے اور یہ بات چیت ایک دوستانہ ماحول میں ، نیک نییتی کے ساتھ کھل کر ہو گی۔

کچھ ہی عرصے بعد کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی سربراہ میرکل کے ریپبلکن پارٹی کے جارج بش کے ساتھ تعلقات بہتر ہونا شروع ہوئے۔ جارج بش بھی میرکل کی ان کوششوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔

جب بھی ہم عالمی سیاست کے کسی موضوع پر بات کرتے ہیں، تو ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مسلئے کو مشترکہ طور پر حل کیا جائے۔ میں چانسلر کے فیصلوں کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔

اپنے پیش رو گیرہارڈ شرؤڈر کے مقابلے میں میرکل جارج بش پر تنقید بھی کر سکتی تھیں۔ انہوں نے تحفظ ماحول اور حراستی مرکز گوانتانامو جیسے موضوعات پر صدر بش کو بارہا تنقیدکا نشانہ بنایا۔ میرکل کے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اس وقت تھوڑے عرصے کے لئے تناؤ پیدا ہوا ، جب موجودہ صدر باراک اوباما نے برلن کے مشہور زمانہ برنڈن برگ دروازے پر خطاب کرنا تھا۔ میرکل نے انہیں اس جگہ خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ صدر بننے کے بعد باراک اوباما اور میرکل کے درمیان ایک تناؤ کی کیفیت کسی سی ڈھکی چھپی بات نہیں تھی۔ لیکن اب دونوں کے مابین ایک دوستانہ اور پیشہ ورانہ سطح پر تعلقات قائم ہیں۔

جرمنی اور روس

روس نے جرمن حکومت کے سب سے مشکل اور پیچیدہ ساتھی ہونے کا ثبوت دیا۔ روس کے ساتھ تعلقات کو مشکلات سے بھرا ساتھ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ روس نے انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی ایسے معیارات کی پاسداری نہیں کی، جن کا میرکل نے بارہا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر روس اور دیگر مغربی ممالک کے تعلقات بھی کافی حد تک کشیدہ تھے۔ پھر مشرقی یورپ میں امریکی میزائل نظام کی تنصیب کے منصوبے نے اور 2007ء میں اس وقت کے روسی صدر ولادی میر پوٹن کی امریکہ پر تنقید نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ 2008ء میں روس اور جارجیا کی جنگ نے تعلقات کو مزید

Anschlag in Afghanistan am 5. September 2009

بیشتر جرمن عوام افغان مشن کے خلاف ہیں

پریشان کن بنا دیا۔ میرکل نے جنوبی اوسیتیا اور ابخازیہ میں روس کی پیش قدمی اور پھر انہیں خود مختار ریاستیں تسیلم کرنے پر احتجاج کیا۔ 2009 ء میں روس اور یوکرائن کے مابین گیس کی ترسیل کے معاملے پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ جرمن حکومت نے اس موقع پر ماسکو اور کی ایو حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جرمنی اور روس کے درمیان موجود فاصلے کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے مابین اب ایک دوستانہ ماحول قائم ہے۔ جس کی مثال موجودہ عالمی مالیاتی بحران سے نمنٹنے کے حوالے سے ماسکو اور برلن حکومت کی مشترکہ کوششیں ہیں۔

افغان مشن

افغانستان کا مسئلہ،جرمن حکومت کے لئے انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ شمالی افغانستان میں موجود جرمن دستے کب تک وہاں تعینات رہیں گے، اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ جرمنی میں کئی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ افغان مشن کے

Israel greift Hamas mit Panzern an

میرکل نے غزہ میں شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس کو قرار دیا

بارے میں حتمی تاریخ طے کی جائے۔ لیکن صورتحال برلن حکومت سے اس کے برعکس مطالبہ کر رہی ہے۔ مزید فوجی اور عسکری سامان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ملک میں کرائے جانے والی جائزوں سے یہ بات سامنے آئی کہ جرمن عوام کی اکثریت افغان مشن کی مخالف ہے۔ اسی وجہ سے افغانستان کے موضوع کو اس مرتبہ کے انتخابی مہم سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔

مشرق وسطیٰ

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے گزشتہ چار سالوں میں کسی بھی خطے کا اتنی مرتبہ دورہ نہیں کیا، جتنا کہ مشرق وسطی کا۔ انہوں نے خطے کے چودہ دورے کئے اور مشرقی وسطی تنازعے کےحل کے سلسلے میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ برلن میں جرمن وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں کئی اہم اجلاس منعقد کرائے۔ امریکہ کی مخالفت کے باوجود شٹائن مائر نے شام کو ان مذاکرات میں شامل کیا ۔ تا ہم اس سلسلے میں جرمن حکومت کسی بریک تھرو تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ اور 2009ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد ، مشرق وسطی امن مذاکرات میں فوری پیش رفت کی تمام تر امیدیں ختم ہو گئیں۔ ان دونوں جنگوں میں انگیلا میرکل نے اسرائیل کا ساتھ دیا اور غزہ میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار حماس کو ٹھرایا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM