1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن حکومت پولیس کو جسمانی کیمروں سے لیس کرنے پر متفق

جرمنی میں چانسلر میرکل کی مخلوط حکومت میں اس بارے میں اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو جسمانی کیمروں سے لیس کیا جانا چاہیے۔ اس طرح پولیس کی کارکردگی اور امن عامہ کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

وفاقی دارالحکومت برلن سے ہفتہ بارہ مارچ کو مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پولیس اہلکاروں کی طرف سے باڈی کیمرے استعمال کرنے کے ایک ایسے کامیاب علاقائی تجربے کا نتیجہ ہے، جو صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں کیا گیا۔

جرمن اخبار ’رائنیشے پوسٹ‘ نے اپنی ہفتے کی اشاعت میں وفاقی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان کا بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں کیے جانے والے تجربے کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔‘‘ وزارت داخلہ کے ترجمان بُرکہارڈ لِشکا نے اس علاقائی جریدے کو بتایا، ’’باڈی کیمرے کسی بھی جگہ پر کشیدہ صورت حال کو پرسکون بنانے اور مسلح حملوں کی تفتیش میں بہت مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

بُرکہارڈ لِشکا نے ’رائنیشے پوسٹ‘ کو بتایا، ’’جب سے ملک کے مغرب میں واقع صوبے رائن لینڈ پلاٹینیٹ میں پولیس افسران نے اپنی یونیفارم کے اوپر لگائے جانے والے چھوٹے کیمرے (bodycam) استعمال کرنا شروع کیے ہیں، اس وفاقی ریاست میں پولیس اہلکاروں پر کیے جانے والے حملوں کی شرح میں واضح کمی ہوئی ہے۔‘‘

رائن لینڈ پلاٹینیٹ گزشتہ برس وہ دوسرا جرمن صوبہ بن گیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمرے استعمال کرنے کا پابند بنا دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ کیمرے صرف اس جرمن صوبے کے ہمسایہ وفاقی صوبے ہیسے میں استعمال کیے جا رہے تھے۔

جرمنی میں عام شہریوں اور صارفین کی نجی زندگی کے تحفظ کے لیے سرگرم کئی سماجی گروپ ان کیمروں کے عمومی استعمال کو لازمی بنانے کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس کے برعکس جرمنی کے کل سولہ وفاقی صوبوں میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہاں پولیس اہلکاروں کو باڈی کیمرے استعمال کرنے کا پابند بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

DW.COM