1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن حکومت نے ایک لاکھ فیملی ری یونین ویزے جاری کیے

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق قریب ستر ہزار عراقی اور شامی شہریوں نے جرمنی میں اپنے خاندانوں سے فیملی ری یونین کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ برلن حکومت کا کہنا ہے کہ سن 2015 سے لے کر اب تک ایسے ایک لاکھ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

جرمنی میں گزشتہ  ماہ ہونے والے عام انتخابات کے بعد سے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو اور اس کی ہم خیال جماعت کرسچین سوشل یونین کے درمیان مخلوط حکومت بنانے کے راستے میں مہاجرین کا معاملہ سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔

تارکین وطن ہی کے حوالے سے چانسلر میرکل کی پالیسی کے سبب ان کی جماعت سی ڈی یو کے حمایتیوں کے ایک دھڑے کا جھکاؤ مہاجرت مخالف اور  دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی یا متبادل برائے جرمنی کی طرف ہوا۔

جرمن وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق جرمن حکومت نے سن 2015 سے سن 2017 کے وسط تک ایک لاکھ دو ہزار ایسے شامی اور عراقی شہریوں کو ویزے دیے جو جرمنی میں اپنے خاندانوں سے ملاپ کے خواہشمند تھے۔

برلن میں ملکی وزارت خارجہ کو توقع ہے کہ اس تعداد میں سن 2018 تک ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان مزید افراد کو فیملی ری یونین ویزے دیے جائیں گے۔

ایسے تارکین وطن جنہیں جرمنی میں پناہ گزین کی حیثیت دی جا چکی ہے، اپنے شریک حیات اور نابالغ بچوں کو جرمنی بلانے کے مجاز ہیں۔ اسی طرح پناہ گزین قرار دیے جانے والے نابالغ بچے بھی اپنے والدین کو جرمنی بلانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں مہاجرت مخالف جماعت اے ایف ڈی کی ریکارڈ کارکردگی اور قدامت پسند اتحاد کو بھاری نقصان کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے حکومت سازی کے لیے دو جماعتوں کے ساتھ مشکل مذاکرات کے آغاز سے قبل ملک میں مہاجرین کے داخلے کی حد دو لاکھ مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

میرکل کی دو دیگر ممکنہ اتحادی جماعتوں گرین پارٹی اور فری ڈیموکریٹک پارٹی نے تاہم اس تجویز کو مسترد کیا ہے۔

DW.COM