1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن حکومت سونے کے نصف ذخائر ملک میں واپس لے آئی

جرمنی کے قومی بینک نے بتایا ہے کہ اُس نے ملک کے سونے کے کُل ذخائر کا نصف واپس ملک میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ ذخائر دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہونے والی سرد جنگ کے دوران مختلف ملکوں میں منتقل کیے گئے تھے۔

جرمنی کے مرکزی بینک بنڈس بینک نے بتایا ہے کہ ملک کے سونے کے کُل ذخائر کا نصف بیرونی ممالک کے مختلف لاکرز سے واپس لانے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

بینک نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ سونے کی منتقلی کا یہ عمل مقررہ وقت سے تین برس قبل ہی مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ منتقلی ابتدائی پلان کے تحت سن 2020 میں مکمل کی جانا تھی۔

سینکڑوں ٹن سونا امریکا سے واپس جرمنی پہنچ گیا

جرمن سونا واپس ملکی مرکزی بینک میں

سونے کی بیرون ملک لاکرز میں ذخیرہ کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان کو سرد جنگ کے دوران منتقل کیا گیا تھا کیونکہ اُس وقت کی جرمن حکومت کو خوف لاحق تھا کہ سابقہ سوویت یونین کی فوج کشی کے بعد اس سونے کو قبضے کی صورت میں لُوٹا جا سکتا تھا۔

اُس وقت کے مغربی جرمنی کی حکومت نے اپنے سونے کے ذخائر کو لندن، نیویارک اور پیرس کے مختلف لاکرز میں رکھوا دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے سونے کی بھاری مقدار کو ذخیرہ کرنے کے لیے یہی تینوں شہر یعنی لندن، نیویارک اور پیرس میں قائم انتہائی سکیورٹی کے لاکرز کو اہم خیال کیا جاتا ہے۔

جرمنی کے مرکزی بینک کے مطابق جرمن سونے کے ذخائر کا کُل حجم 3378 ٹن ہے۔ اس کا نصف یعنی 1689 ٹن واپس جرمنی منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سونے کی منتقلی کا باضابطہ اعلان سن 2013 میں کیا گیا تھا۔  بیرونِ ملک رکھے گئے سونے کی واپس ملک میں لانے کے لیے بعض سیاسی حلقے گاہے بگاہے آواز بلند کرتے چلے آ رہے تھے۔

جرمنی کا بقیہ نصف یا 1689 ٹن سونا ابھی بھی نیویارک اور لندن کے لاکرز میں رکھا ہوا ہے۔ اس میں 36.6 فیصد سونا نیویارک میں ذخیرہ کیا گیا ہے اور 12.8 فیصد کے قریب لندن میں رکھا ہوا ہے۔

DW.COM