1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن حکمران جماعت کا اجتماع، ملک بھر میں پرامن مظاہرے

جرمنی میں حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت کے سالانہ کنوینشن سے قبل ہزار ہا افراد نے ہفتے کے روز ملک کے مختلف شہروں میں سماجی عدم مساوات، معاشی ناہمواری اور جوہری توانائی سے متعلق حکومتی موقف کے خلاف مظاہرے کئے۔

default

یہ مظاہرے جرمن ٹریڈ یونین فیڈریشن DGB کی جانب سے منعقد کئے گئے۔ اس فیڈریشن کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں تقریباﹰ ایک لاکھ افراد نے شرکت کی اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ احتجاجی مارچ شٹٹ گارٹ، ڈورٹمنڈ، نیورمبرگ اور ایفُرٹ کے شہروں میں کئے گئے۔

آئی جی میٹل نامی جرمن ٹریڈ یونین کے سربراہ بیرتھولڈ ہُوبر نے شٹٹ گارٹ میں منعقدہ ایک مظاہرے سے اپنے خطاب میں کہا : ’’ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں طاقت ور مفاد پرست عناصر اپنے اثر و رسوخ اور سرمائے سے ملکی سیاست کا رخ متعین کریں۔‘‘

انہوں نے اس موقع پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں کم از کم تنخواہ میں اضافے کا اعلان کیا جائے تاکہ جرمنی کی اقتصادی ترقی میں اپنی محنت شامل کرنے والے مزدوروں کو ان کا حصہ بہتر انداز سے مل پائے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کا تین روزہ سالانہ پارٹی اجتماع آج سے جنوبی جرمن شہر کارلسروئے میں ہو رہا ہے۔ پیر کے روز پارٹی رہنما اگلی مدت کے لئے انگیلا میرکل کے بطور پارٹی سربراہ دوبارہ انتخاب کے حوالے سے اپنا ووٹ استعمال کریں گے۔ عوامی جائزوں کے مطابق گزشتہ برس دوسری مدت کے لئے منتخب ہونے والی جرمن چانسلر کی مقبولیت میں خاصی کمی دیکھی جا رہی ہے اور اسی رجحان کا تھوڑا بہت اظہار متوقع طور پر پارٹی کانگریس میں بھی سامنے آسکتا ہے تاہم یہ بات تقریباﹰ یقینی ہے کہ میرکل بآسانی دوبارہ منتخب ہو جائیں گی۔

No-Flash Angela Merkel

انگیلا میرکل کو پارٹی کے چند رہنماؤں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے

میرکل کو پارٹی کے متعدد رہنماؤں کی جانب سے اس تنقید کا بھی سامنا ہے کہ قدامت پسند جماعت کی قائد خود کوئی زیادہ ’قدامت پسند‘ نہیں ہیں۔ دوسری جانب عوامی جائزوں میں سی ڈی یو کی مخالف جماعت ایس پی ڈی اور گرین پارٹی کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

انگیلا میرکل نے جرمن جریدے دی ویلٹ ام زونٹاگ کو دئے گئے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سی ڈی یو اور سی ایس یو کے لئے قدامت پسند اقدار کا خیال رکھنا نہایت اہم ہے، جو ہمیشہ رکھا جائے گا تاہم یہ بھی دیکھا جانا ضروری ہے کہ ماحول میں تبدیلیاں انتہائی تیز رفتاری سے ہو رہی ہیں۔ انگیلا میرکل کا یہ انٹرویو دی ویلٹ ام زونٹاگ میں آج اتوار کے روز شائع ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سی ڈی یو سے تعلق رکھنے والی لیبر منسٹر اُرسلا فان ڈیئر لائن نے ایک اور جرمن ہفت روزہ بلڈ ام زونٹاگ کو دئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی جماعت کو آئندہ کسی امیدوار کو بطور چانسلر نامزد کرنے سے قبل پارٹی کے اندر ووٹنگ کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ فان ڈیئر لائن پارٹی کانگریس میں ڈپٹی لیڈر کے طور پر انتخاب بھی لڑ رہی ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس