1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن حکام اپنے وطن لوٹنے والے مہاجرین کا ریکارڈ بھی رکھیں گے

جرمن ادارے اب تسلیم شدہ مہاجرین کی سفری معلومات کا تبادلہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آئندہ جرمنی میں موجود تسلیم شدہ مہاجرین اپنے وطن کا سفر کریں گے تو اس کا ریکارڈ بی اے ایم ایف سمیت متعلقہ اداروں کے پاس موجود ہو گا۔

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کی خاتون ترجمان نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ اب تک یہ وفاقی ادارہ تسلیم شدہ مہاجرین سے متعلق سفری معلومات کے بارے میں اعداد و شمار جمع نہیں کر رہا تھا۔ قبل ازیں تسلیم شدہ مہاجرین کے ان کے آبائی وطنوں کی جانب سفر کے بارے میں معلومات صرف غیر ملکیوں کے امور سے متعلق جرمن بلدیاتی دفاتر (Ausländerbehörden) اور بعض انفرادی کیسوں میں وفاقی جرمن پولیس کے پاس ہوتی تھیں۔ یہ ادارے بعد ازاں ان معلومات کا تبادلہ بی اے ایم ایف کے ساتھ کرتے تھے۔

جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

گزشتہ دنوں جرمن اخبار ’وَیلٹ اَم زَونٹاگ‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ کچھ تسلیم شدہ مہاجرین واپس اپنے آبائی وطنوں کی جانب چلے گئے تھے لیکن جرمن دفتر روزگار کو اس بارے میں کوئی معلومات ہی نہیں تھیں۔ برلن میں قائم وفاقی دفتر روزگار کو بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ مہاجرین ملک میں موجود نہ ہونے کے باوجود حکومت سے بے روزگار افراد کے لیے ماہانہ سماجی امداد یا Hartz-IV نامی الاؤنس وصول کر رہے تھے۔

آڈیو سنیے 02:58

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

سماجی مالی امداد وصول کرنے والے جرمن شہریوں اور مہاجرین کو ملک سے باہر جانے کے لیے چھٹی لینا ہوتی ہے اور اس دورانیے میں انہیں ماہانہ امدادی رقم ادا نہیں کی جاتی۔ جرمن اداروں کے مابین معلومات کا تبادلہ نہ ہونے کے باعث یہ مہاجرین ملک میں نہ ہوتے ہوئے بھی حکومت سے رقوم وصول کر رہے تھے۔

بی اے ایم ایف کی ترجمان کا کہنا تھا، ’’بی اے ایم ایف، غیر ملکیوں سے متعلق دفاتر اور دفتر روزگار کے مابین ایسی معلومات کے تبادلے کا نظام موجود نہیں تھا لیکن اب فوری طور پر یہ سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔‘‘

مہاجرین کی جانب سے اپنے آبائی وطنوں کی جانب سفر کے بارے میں اطلاع فراہم نہ کرنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کو جرمنی میں سیاسی پناہ اس بنیاد پر دی جاتی ہے کہ ان کے اپنے آبائی وطنوں میں ان مہاجرین کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔ اگر جرمن اداروں کو علم ہو جائے کہ کسی مہاجر نے اپنے وطن کی جانب سفر کیا ہے، تو ایسی صورت میں ان کا سیاسی پناہ کا حق ختم کیا جا سکتا ہے۔

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے مہاجرت اور ترک وطن کی خاتون ترجمان کا تاہم کہنا تھا کہ ناگزیر وجوہات کی بنا پر، مثال کے طور پر اگر کسی مہاجر کا کوئی قریبی رشتہ دار انتہائی بیمار ہو، واپس آبائی وطن جایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا، ’’محض سیر کے لیے آبائی وطن کی جانب سفر اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ مہاجر کو اپنے ملک میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘‘ ایسی صورت میں ان مہاجرین کے لیے جرمنی میں سیاسی پناہ کا حق ختم کیا جا سکتا ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

DW.COM

Audios and videos on the topic