1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن بے روزگاروں کی مالی مدد، معمولی اضافے پر شدید تنقید

جرمن اپوزیشن جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے ملک میں طویل عرصے کے بعد بے روزگار افراد کے لئے سرکاری مالی امداد میں بہت معمولی سے اضافے کے حکومتی فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

default

چانسلر انگیلا میرکل کی قیادت میں موجودہ وفاقی حکومت اس فیصلے پر اس لئے مجبور ہو گئی تھی کہ جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت نے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ اس سرکاری مالی امداد میں اضافہ کرے۔

لیکن اب سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی اور بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت ’دی لنکے‘ نے تو بے روزگار شہریوں کے لئے ریاستی امداد میں اس بہت معمولی سے اضافے کے حکومتی فیصلے کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں مقدمے دائر کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

وفاقی جرمن حکومت میں شامل جماعتوں، قدامت پسندوں کی یونین پارٹیوں اور ترقی پسندوں کی فری ڈیموکریٹک پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا ایک مشترکہ اجلاس اتوار کے روز برلن میں ہوا ۔ اس اجلاس میں وفاقی وزیر محنت اُرزلا فان ڈیئر لائن کی اس تجویز کو منظوری دے دی گئی کہ روزگار کی ملکی منڈی میں ’ہارٹس فور‘ کہلانے والی اصلاحات کے تحت اگلے سال کے اوائل سے قریب 4.7 ملین بے روزگار افراد کو دی جانے والی ماہانہ مالی امداد میں پانچ یورو کا اضافہ کر دیا جائے۔

Flash-Galerie Schokolade

بے روزگار افراد کی مالی مدد کے لئے معمولی اضافے پر جرمن حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے

اب تک جرمنی میں طویل عرصے سے بے روزگار ہر کارکن کو ماہانہ بنیادوں پر 359 یورو ادا کئے جاتے ہیں لیکن سن 2011ء کے اوائل سے ایسی فی کس ماہانہ ادائیگیوں کی مالیت 364 یورو کر دی جائے گی۔

’ہارٹس فور‘ قوانین سے متعلق ان تبدیلیوں کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حکومت 4.7 ملین بے روزگار کارکنوں کو تو ہر ماہ فی کس پانچ یورو زیادہ ادا کرے گی لیکن ایسے کارکنوں کے گھرانوں میں قریب دو ملین بچوں اور نوجوانوں کو کوئی اضافی ادائیگیاں نہیں کی جائیں گی۔

مالی سطح پر ضرورت مند گھرانوں کے ایسے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سہولت بہرحال میسر ہو گی کہ وہ بوقت ضرورت تعلیم اور دیگر شعبوں میں حکام کو اضافی مالی مدد کی درخواست دے سکیں گے۔ مثلاﹰ اگر ایسے بچوں میں سے کسی کو سکولوں میں معمول کی تعلیم کے بعد ٹیوشن کی ضرورت ہو تو اس کے لئے مالی ادائیگیاں۔

Hartz-IV کہلانے والی سرکاری مالی امداد وصول کرنے والے جرمن شہریوں کو ادائیگیوں میں ’نہ ہونے کے برابر‘ اضافے سے متعلق جو شدید تنقید اپوزیشن جماعتوں نے کی ہے، اس کے بعد حکومت کے لئے ان قانونی ترامیم کی پارلیمانی منظوری کا عمل بہت مشکل ہو جائے گا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ فی الحال یہ فیصلہ مخلوط حکومتی جماعتوں نے کیا ہے، جس کے بعد پارلیمانی ایوان زیریں میں اس کی منظوری بھی ممکنہ طور پر کوئی بڑا چیلنج نہیں ہو گی۔ تاہم ان قانونی ترامیم کی وفاقی پارلیمان کے ایوان بالا کی طرف سے منظوری بھی لازمی ہو گی، جہاں مخلوط حکومت کسی بھی فیصلے کی اکثریتی رائے سے منظوری کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی مدد لینے پر مجبور ہو گی۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM