1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمن، بھارتی سائنسی روابط میں غیر معمولی پیش رفت

بھارت اور جرمنی کے مابین سائنس کے شعبے میں جاری باہمی تعاون کے حوالے سے اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریسرچ اور ترقی میں غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

default

جرمن ریسرچ فاؤنڈیشن (DGF) کی طرف سے تیار کردہ اس رپورٹ میں جرمنی اور بھارت کے درمیان گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے سائنسی تعاون کو ایک دستاویز کی شکل میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس میں بھارت میں موجود تحقیقی امکانات اور صلاحیتوں کا بھی تجزیہ کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کو تیار کرنے والوں میں سے ایک، ڈاکٹر بی ایم گپتا نے، جو سرکاری تحقیقی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹڈیز سے وابستہ ہیں، ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان سائنسی تعاون کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کی پہلی اور انتہائی اہم رپورٹ ہے۔ اس میں سائنسی تحقیق کی رفتار کے علاوہ معیار کے لحاظ سے بھی بھارت کے سائنسی اداروں کا تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ یہ علم ہو سکے کہ کس ادارے میں تحقیق کا معیار بلند ہے، کہاں یہی معیار قدرے اطمینان بخش ہے اور کس ادارے کا تحقیقی معیار پست ہے۔

Riesengalaxie mit Hintergrundbeleuchtung

ڈاکٹر گپتا نے کہا کہ اس سے جرمن اسکالرز کو اپنے فیلڈ کے مطابق بھارت میں اپنے بہترین پارٹنر منتخب کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں نہ صرف ریسرچ کے معیار بلکہ ریسر چ کے نتائج، بین الاقوامی تعاون کے نتائج اور بھارتی جرمن تعاون کے نتائج پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سن 2004 اور سن 2009 کے درمیان بھارت اور جرمنی کے مابین سائنسی تعاون میں سالانہ آٹھ فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔ بعض شعبوں مثال کے طور پر کمپیوٹر سائنس میں تو 23.6 فیصد، امیونولوجی اور مائیکرو بیالوجی میں 18.9 فیصد، میڈیسن میں 18.2 فیصد اور ارضیاتی علوم کے سلسلے میں تعاون میں 17.5 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

Technologie aus Indien

جرمن ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر ماتھیاس کلائنر نے بتایا کہ سائنس کے شعبے میں جرمنی اور بھارت کے درمیان یونیورسٹی کی سطح پر اور غیر یونیورسٹی کی سطح پر بھی باہمی تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سن 2004 اور سن 2009 کے درمیان 76 جرمن اور 69 بھارتی اداروں نے باہمی سائنسی تعاون میں حصہ لیا۔ یونیورسٹیوں نے مشترکہ طور پر 5344 اور غیر یونیورسٹیوں نے 1395 مضامین اور مقالے شائع کیے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ اس رپورٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے 20 اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ جن میں فزکس، کیمسٹری، ریاضی، ارضیاتی علوم، بائیو کیمسٹری، بائیو ٹیکنالوجی، فارمیسی، امیونولوجی، مائیکرو بیالوجی، نیورولوجی، انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنسز، میٹیریل سائنس، انرجی، میڈیسن، ویٹرنری، نرسنگ، پبلک ہیلتھ اور ڈینٹل میڈیسن شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان شعبوں کا خصوصی جائزہ لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے کن شعبوں میں باہمی تعاون کا رجحان مضبوط ہے اور کن شعبوں میں کمزور۔ اس جائزے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چھ سات علمی شعبے ایسے ہیں، جن میں پیش رفت بہت اچھی ہے۔

Indien Deutschland S.M. Krishna Guido Westerwelle NO FLASH

ڈاکٹر گپتا نے بتایا کہ اس تجزیے سے اس بات کا اندازہ بھی ہوگیا ہے کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان سائنسی تعاون سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں یا اس حوالے سے کہاں کہاں کمی اور خامیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ موضوعات اور اداروں کے لحاظ سے بھی تحقیقی کام بکھرا ہوا ہے، جس سے خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آ رہا۔ دونوں ملکوں کو باہمی ترجیحات کے اعتبار سے ان تحقیقات کو موضوعات اور اداروں کی بنیاد پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر گپتا نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان سائنسی تعاون کو زیادہ نتیجہ خیز اور سود مند بنانے کے لیے اداروں کی سطح پر طریقہء کار کو زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح روس، امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ بھارت کا ادارہ جاتی میکینز م مضبوط ہے، اسی طرح جرمنی کے ساتھ بھی ادارہ جاتی میکینزم مضبوط ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سیمینارز کی تعداد میں اضافے کی بھی ضرورت ہے۔ ان کی مدد سے یہ پتہ چل سکے گا کہ کن کن شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے اور باہمی سائنسی تعاون کو کس طرح مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔

رپورٹ: افتخار گیلانی، نئی دہلی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس