1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن بشپ کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات مسترد

جرمنی کے دفتر استغاثہ نے کہا ہے کہ سابق کتھولک بشپ والٹر مکسا پر عائد کئے گئے جنسی زیادتی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں، تاہم نئے شواہد کے مطابق وہ بچوں کو مارنے پیٹنے اور بدعنوانی کے مرتکب پائے گئے۔

default

جرمنی کے جنوبی شہرآؤگسبرگ کے سابق بشپ والٹرمِکسا پرالزامات عائد کئے گئے تھے، وہ سن 1970 کے دوران بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے مرتکب ہوئے۔ اُس وقت مکسا یتیم بچوں کے لئے بنائے گئے ایک خصوصی گھر کے منتظم تھے۔

ان الزامات کی جانچ پڑتال کے لئے گزشتہ ہفتے ہی ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی شروع کی گئی تھی۔ جمعہ کو جرمن تحقیقی افسران نے اپنی مختصر رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مکسا ،کسی بھی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب نہیں پائے گئے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ 1970ء میں انہوں نے کچھ بچوں کوجسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ دفتر استغاثہ کے مطابق مکسا نے ان تحقیقات کے دوران بھر پور تعاون کیا۔

اس تحقیقی کمیٹی کے سربراہ سباستین کانوٹ نے جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کوبتایا کہ اس تحقیق کے دوران درجنوں افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ گواہوں نے بتایا ہے کہ مکسا بچوں کو بیلٹ یا چھڑی سے مارتے تھے۔ مبینہ طور پر انہوں نےایک مرتبہ ایک لڑکی کو اتنا مارا کہ وہ کھڑے رہنے کے قابل نہ رہی۔ کانوٹ نے ایک گواہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مکسا بچوں کو مارتے ہوئے کہتے، ’تمھارے اندر شیطان ہے، اور میں اسے باہر نکال دوں گا۔‘

NO FLASH Bischof Walter Mixa

69 سالہ والٹرمکسا

کانوٹ نے کہا ہے کہ مکسا پرعائد بدعنوانی کے الزمات جھٹلائے نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہا، ’مکسا نے یتیم خانے کے لئے کچھ سازوسامان خریدا تھا لیکن وہ کبھی بھی اس گھر میں نہیں آیا۔‘ کانوٹ کے مطابق اس سامان کی مالیت کوئی تیس ہزار یورو بنتی ہے، جن کا کوئی حساب نہیں مل رہا۔

69 سالہ والٹرمکسا نے رواں برس اپریل تک بطور بشپ خدمات سر انجام دیں۔ اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد انہوں نے پاپائے روم بینیڈکٹ شانز دہم کو اپنا استعفی جمع کروا دیا تھا جو گزشتہ ہفتے ہی منظور کیا گیا۔ اپنے استعفی میں انہوں نے اپنے رویے پر معافی بھی مانگی۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق مکسا اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد سوئیٹزرلینڈ کے ایک کلینک میں رہ رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM