1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن بانڈز کی مایوس کن فروخت سے یورو کی قدر متاثر

جرمن مالیاتی بانڈز کی حالیہ فروخت مایوس کن حد تک کم رہی ہے جس کے باعث ایسے خطرے اور اندیشے ابھرے ہیں کہ کہیں یورپی قرضوں کے بحران کے آسیب نے اپنا رخ اب برلن کی جانب تو نہیں کر لیا ہے۔

default

جرمن مالیاتی بانڈز کی مایوس کن خریداری نے نئے خدشات کو پیدا کر دیا ہے کہ یورپ میں پیدا شدہ قرضوں کے بحران سے جرمن اقتصادیات اب متاثر ہونے والی ہیں۔ جرمن مالیاتی بانڈز کے خریدار دستیاب نہیں ہیں۔ چھ ارب یورو کے بانڈز کی فروخت میں اب تک صرف نصف سے بھی کم فروخت ہو سکے ہیں۔ اس مناسبت سے جرمنی کی حکومتی قرضے کی نگرانی کرنے والی ایجنسی کی کارکردگی غیر متاثر کن قرار دی جا رہی ہے۔ مالیاتی سکیورٹی کے ماہرین نے جرمن مالیاتی بانڈز کی کمزور فروخت کو تباہ کن قرار دیا ہے۔

NO FLASH Schuldenkrise Finanzkrise Euro Eurokrise Krise Griechenland

یورو کرنسی عدم استحکام کا شکار ہے

اس صورت حال کے تناظر میں وفاقی جرمن حکومت کی جونیئر پارٹنر فری ڈیموکریٹک پارٹی کے فرینک شیفلر (Frank Schaeffler) کا کہنا ہے کہ یورپ کے قرضوں کا بحران دن بدن گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ شیفلر نے اس بحران کو دیمک سے تعبیر کیا اور ان کے مطابق اب یہ جرمنی کے قریب پہنچنے والا ہے۔ ماہرین کے خیال میں اگر جرمنی بھی قرضوں کے بحران کی لپیٹ میں آ گیا تو یورو زون کی بقا کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

آئر لینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں منعقدہ ایک مالیاتی و اقتصادی کانفرنس میں ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پُوورز کے اکنامک ماہر ڈیوڈ بیئرز کا کہنا تھا کہ یورو زون کی تمام ریاستوں میں اقتصادی صورت حال روزانہ کی بنیاد پر گھمبیر ہو رہی ہے اور اب اس زون کی محفوظ ریاستیں بھی غیر محفوظ ہونے لگی ہیں۔ ان میں خاص طور پر آسٹریا، ہالینڈ اور فرانس شامل ہیں۔ ان تینوں ملکوں میں گزشتہ دو تین ہفتوں سے سرمایہ کار پریشانی کا شکار ہیں اور سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے وہ خود کو غیر محفوظ خیال کرنے لگے ہیں۔ ڈیوڈ بیئرز نے جرمن حکومت کو صورت حال پر نظر ثانی کا مشورہ دیا ہے۔

جرمن بانڈز میں خریداروں کی عدم دلچسپی نے یورو زون کی کرنسی کی قدر میں مزید کمی پیدا کر دی ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث یورو زون کی مجموعی اقتصادی صورت حال میں عدم استحکام دکھائی دیتا ہے۔

Superteaser NO FLASH EU Euro Börse in Frankfurt am Main Robert Halver

یورپی بازار حصص میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی پیدا ہو چکی ہے

دوسری جانب بیلجیم حکومت نے مالی بحران کے شکار بینک ڈیکسیا کے لیے فرانس سے مزید ایمرجنسی امداد طلب کی ہے۔ اس امداد سے بھی سرمایہ کاروں کو پریشانی لاحق ہوئی ہے۔ ڈیکسیا بینک کو دیوالیہ پن سے بچنے کے لیے نوے ارب یورو کی ضرورت ہے۔ ڈیکسیا بینک کے بحران کے تناظر میں فیچ (Fitch) ریٹنگ ایجنسی نے پیرس حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی اقتصادیات کو ان شاکس یا صدموں سے بچائے ورنہ اس کی ٹرپل اے پوزیشن کو خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ فیچ ایجنسی نے فرانسیسی حکومت کو بیمار بینکوں کی امداد سے گریز کرنے کا اشارہ دیا ہے کیونکہ اُس کی اقتصادیات کا پہیہ بھی سُست روی کا شکار ہو چکا ہے۔

یورپی قرضوں کے بحران سے یورو زون کی ہیئت پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔ اس کی نئی تشکیل کو وقت کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مناسبت سے یورپ اور امریکہ میں بحث زور پکڑ چکی ہے۔ بحث میں یورپی دانشوروں سمیت مالیاتی ماہرین کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یورو زون کے انتظامی ڈھانچے پر جرمنی اور فرانس میں اتفاق رائے نہیں دکھائی دے رہا ۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس