1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمن بارڈر کنٹرول: ’جلد خاتمہ نظر نہیں آتا‘

کرسمس کی چھٹیوں کے بعد ہزاروں سیاح جرمن سرحدوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے باعث ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن صوبہ باویریا کے وزیر داخلہ کا اصرار ہے کہ اس صورت حال کے باوجود چیکنگ جاری رہے گی۔

مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران جرمنی نے بھی اپنی سرحدوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کر دیا تھا۔ اسی جانچ پڑتال کی وجہ سے کرسمس کی چھٹیوں کے بعد واپس جرمنی آنے والے ہزارہا شہری آسٹریا اور جرمنی کے مابین سرحد پر ٹریفک میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

آسٹریا کی سرحد سے متصل جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان کا کہنا ہے کہ ملکی سرحدوں پر جانچ پڑتال کا یہ عمل جاری رہے گا۔ ہیرمان کا کہنا تھا کہ جب تک آزادانہ سفر کے یورپی معاہدے میں شامل ممالک یا دوسرے الفاظ میں شینگن زون کے رکن ملک اپنی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بنا لیتے، تب تک جرمن سرحدوں کی نگرانی کا نظام بھی جاری رکھا جائے گا۔

جرمنی کے اس سرحدی کنٹرول کو شینگن زون کی بیرونی سرحدوں کے کنٹرول سے مشروط کرتے ہوئے یوآخم ہیرمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’فی الوقت میں نہیں کہہ سکتا کہ جرمن سرحدوں پر نگرانی کا یہ عمل کتنے عرصے تک جاری رہے گا۔‘‘

باویریا کے صوبائی وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شینگن زون میں شامل ایسے ممالک جو یونین کی بیرونی اور اپنی قومی سرحدوں کی نگرانی کرنے کے سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں، انہیں شینگن کے معاہدے سے نکل جانا چاہیے۔ ہیرمان نے مزید کہا، ’’جو قواعد کے مطابق چل سکتے ہیں، وہ (شینگن زون میں) شامل رہیں، اور جو قواعد سے اتفاق نہیں کرتے وہ نکل جائیں۔‘‘

انہوں نے آزادانہ نقل و حرکت کے اس یورپی معاہدے میں شامل ممالک کی بیرونی سرحدوں پر شناختی دستاویزات کی جانچ پڑتال کرنے کے مطالبے کو بھی دہرایا۔ قدامت پسندوں کی جماعت سی ایس یو سے تعلق رکھنے والے اس سیاستدان نے کہا، ’’ہمیں سلووینیہ سے بھی بات چیت کرنا چاہیے اور ان سے پوچھنا چاہیے کہ ہم ان کی اندرونی اور بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ان کی معاونت کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘

یوآخم ہیرمان کے بقول، ’’جو ممالک شینگن قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کر سکتے، وہ اس معاہدے سے نکل جائیں۔ آخر کار ایسے دیگر ممالک بھی تو ہیں جو شینگن زون میں شامل نہ ہونے کے باوجود یورپی یونین کا حصہ ہیں۔‘‘

انہوں نے یونین کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے کہا، ’’اگر یورپی یونین کی سرحدوں کی حفاظت یورپی سرحدی محافظوں یعنی فرنٹیکس نامی ادارے کے اہلکاروں کو سونپ دی جائے تو یہ بھی ایک بہتر اقدام ہو گا۔‘‘