1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن ایئر لائن لفتھانزا کو قریب دو ارب یورو کا ریکارڈ منافع

جرمنی کی سب سے بڑی ایئر لائن لفتھانزا کو گزشتہ برس اس کے ایک ذیلی ادارے کے مسافر طیارے کی تباہی اور ملازمین کی متعدد ہڑتالوں کے باوجود زیادہ تر ایندھن کی انتہائی کم قیمتوں کے باعث قریب دو بلین یورو کا ریکارڈ منافع ہوا۔

سے جمعرات سترہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق لفتھانزا کے سربراہ کارسٹن سپوہر نے دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں میں شمار ہونے والے اس ادارے کی 2015ء کے دوران مالیاتی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس اس کمپنی کے لیے ’کئی بڑے جذباتی چیلنجز کا سال‘ تھا۔

پچھلے سال موسم بہار میں پہلے اس ادارے کی کم کرایوں کے لیے مشہور ایک ذیلی کمپنی جرمن ونگز کا ایک مسافر طیارہ تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں 149 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اس کمپنی کو اپنے پائلٹوں اور کیبن ملازمین کی طرف سے تنخواہوں میں اضافے اور دیگر معاملات پر متعدد ہڑتالوں اور اس وجہ سے بےتحاشا مالی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

ان حالات کے باوجود گزشتہ برس لفتھانزا کو زیادہ تر عالمی منڈیوں میں تیل اور ہوائی جہازوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی مقابلتاﹰ بہت کم قیمتوں اور فضائی سفر کے رجحان میں اضافے کے باعث اس کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ منافع ہوا۔

لفتھانزا کے سربراہ کارسٹن سپوہر نے صحافیوں کو بتایا، ’’2015ء میں ہماری کمپنی کو 32.1 بلین یورو کی مجموعی آمدنی ہوئی، جو اس سے ایک سال پہلے کے مقابلے میں 6.8 فیصد زیادہ تھی۔ لیکن اس دوران لفتھانزا کا سالانہ منافع 2014ء میں صرف 55 ملین یورو سے کئی گنا بڑھ کر 1.82 بلین یورو (دو بلین امریکی ڈالر) تک پہنچ گیا، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔‘‘

کارسٹن سپوہر نے کہا کہ اس تاریخی منافع میں صرف فضائی ایندھن کی کم قیمتوں ہی نے بڑا کردار ادا نہیں کیا بلکہ اس میں کمپنی کی اس پالیسی کا بھی بڑا عمل دخل رہا کہ اس کی مسافر پروازوں میں خالی نشستوں کی تعداد کم سے کم ہونی چاہیے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ لفتھانزا گزشتہ برس کے اپنے اس کاروباری میزانیے پر خوش تو ہے لیکن ساتھ ہی اس کی یہ کوششیں بھی ابھی تک جاری ہیں کہ اسے یورپ میں کم قیمت فضائی سفر کے شعبے میں خود کو مزید بہتر مقابلے کے قابل بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

Germanwings Flug 4U 9525 Neuer Bericht

جرمن ونگز کے بارسلونا سے ڈسلڈورف جانے والے طیارے کو اس کے معاون پائلٹ نے ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں دانستہ طور پر کریش کر دیا تھا

ماہرین کے مطابق لفتھانزا یورپ میں مسافروں کے لیے پرکشش کرایوں کی دوڑ میں جن دوسری بڑی فضائی کمپنیوں کا کامیابی سے مقابلہ کرنا چاہتی ہے، ان میں خلیج کے عرب ممالک کی وہ ایئر لائنز پیش پیش ہیں، جنہیں وہاں کی حکومتوں کی طرف سے مالی اعانتیں بھی ملتی ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق لفتھانزا کو توقع ہے کہ اس سال وہ اپنی مسافر پروازوں کے کوایوں میں کمی بھی کر سکے گی جبکہ ساتھ ہی اس کمپنی کے شیئر ہولڈرز میں پچھلے مالی کے لیے فی شیئر 0.50 یورو کی شرح سے منافع تقسیم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

لفتھانزا کے لیے 2015ء میں جس مسافر طیارے کی تباہی بہت زیادہ مشکلات اور پریشانی کی وجہ بنی، وہ اس ادارے کی ملکیت بجٹ ایئر لائن جرمن ونگز کا ایک طیارہ تھا، جسے اسپین میں بارسلونا سے جرمنی میں ڈسلڈورف کی طرف پرواز کے دوران اس کے معاون پائلٹ نے ایلپس کے پہاڑی سلسلے میں دانستہ طور پر کریش کر دیا تھا۔

اس طیارے کا معاون پائلٹ آندریاز لُوبِٹس ڈپریشن کا مریض تھا اور اس واقعے میں فلائٹ 4U 9525 میں سوار مسافروں اور عملے کے ارکان سمیت تمام 149 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جنوبی فرانس میں یہ المناک واقعہ گزشتہ برس 24 مارچ کو پیش آیا تھا۔

DW.COM