1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن انٹیلیجنس ایجنٹ خود ’مشتبہ اسلام پسند‘ نکلا

جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس سروس کے ایک ’مشتبہ اسلام پسند‘ ایجنٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس 51 سالہ جرمن کے بارے میں رپورٹیں سامنے آئی تھیں کہ وہ اپنے ہی خفیہ ادارے کے صدر دفاتر پر ایک مبینہ حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

Symbolbild BfV building (picture-alliance/dpa/O. Berg)

شہر کولون میں جرمن داخلی سیکرٹ سروس بی ایف وی کا ہیڈ کوارٹر

جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ تیس نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق داخلی سلامتی کے نگران جرمن خفیہ ادارے، جو وفاقی دفتر برائے تحفظ آئین یا بی ایف وی کہلاتا ہے، کی طرف سے منگل کو رات گئے بتایا گیا کہ اس ادارے کا یہ ایجنٹ ایک مبینہ اسلام پسند ہے۔  اس کا علم حکام کو ان میڈیا رپورٹوں کے بعد ہوا تھا کہ وہ مبینہ طور پر بی ایف وی کے ہیڈ کوارٹرز پر حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

بی ایف وی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس انٹیلیجنس ایجنٹ کی ’اصلیت‘ سامنے آ گئی ہے۔ اس کے بارے میں رپورٹیں حال ہی میں جرمن ہفت روزہ جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ اور روزنامہ ’دی وَیلٹ‘ میں شائع ہوئی تھیں۔

جرمن میڈیا کے مطابق اس ملزم کی عمر 51 برس ہے اور اسے بظاہر ’حساس معلومات‘ آن لائن ذرائع سے دیگر افراد کے ساتھ شیئر کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق حکام کو یقین ہے کہ وہ جرمنی کے مغربی شہر کولون میں بی ایف وی کے ہیڈ کوارٹرز پر ایک بم حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

اے ایف پی نے بتایا ہے کہ فوری طور پر ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، جو اس طرف اشارہ کرتے ہوں کہ گرفتار کیے گئے خفیہ ایجنٹ کے شام اورعراق کے کئی علاقوں پر قابض دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے ساتھ کوئی رابطے رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم ایک ہسپانوی نژاد جرمن نومسلم ہے۔

Deutschland Bundesamt für Verfassungsschutz in Köln Logo (dapd)

بی ایف وی کا لوگو

اس بارے میں وفاقی ادارہ برائے تحفظ آئین کی ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس ملزم نے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کئی آن لائن گروپوں میں بات چیت کرتے ہوئے اپنے ایک جھوٹے نام کے ساتھ نہ صرف اسلام پسندانہ باتیں کی تھیں بلکہ یہ پیش کش بھی کی تھی کہ وہ بی ایف وی کی اندرونی معلومات بھی مہیا کر سکتا ہے۔

اس جرمن خفیہ ایجنسی کی ترجمان نے یہ تصدیق بھی کی کہ ملزم کے خلاف باقاعدہ وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد اسے گرفتار کیا جا چکا ہے تاہم ترجمان نے یہ تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ ملزم کولون میں اس ادارے کے صدر دفاتر پر کسی بم حملے کا کوئی منصوبہ بنا رہا تھا۔

ترجمان نے مزید کہا، ’’اس وفاقی ادارے اور اس کے کارکنوں کو اس ملزم کی وجہ سے لاحق کسی حقیقی خطرے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔‘‘ دوسری طرف جرمن پراسیکیوٹرز اس کے خلاف ’ریاستی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے ایک سنجیدہ اقدام کی تیاری‘ کے الزام میں مقدمے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

DW.COM