1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن انتہاپسند مسلمانوں اور مہاجرین پر حملے کرنا چاہتے تھے

جرمن پراسیکیوٹرز نے انتہائی دائیں بازو کے چار ایسے ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے، جو قدامت پسند مسلمانوں اور مہاجرین پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ ملزمان میں ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں۔

جرمن حکام نے بتایا ہے کہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزمان کا تعلق انتہائی دائیں بازو کے ایک گروپ سے ہے جبکہ گرفتار شدگان کی عمریں 23 اور 57 برس کے درمیان ہیں۔ ریاستی دفتر استغاثہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گروپ کی بنیاد سن 2014ء کے اواخر میں رکھی گئی تھی جبکہ پٹرول اور دھاتی کیل استعمال کر کے بنائے گئے دیسی ساختہ بموں کے ذریعے حملوں کی منصوبہ بندی مئی 2015ء میں کی گئی تھی۔

بتایا گیا ہے کہ ایک حملے میں جرمنی کے مشرقی شہر لائپزگ کے قریبی علاقے بورنا کے ایک مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا جانا تھا لیکن بروقت گرفتاریوں کی مدد سے یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ پراسیکیوٹرز کے بیان کے مطابق، ’’اس گروپ کی پہلی میٹنگ نومبر 2014ء کے وسط میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں یہ تفصیلات طے ہوئی تھیں کہ آتشیں بم کیسے بنائے جائیں گے جبکہ سلفی نظریات کے حامل مسلمانوں اور مہاجرین کے کیمپوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں گفتگو بھی کی گئی تھی۔‘‘

مزید بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے تحت دو ملزمان نے چیک جمہوریہ کا سفر بھی کیا تھا تا کہ وہاں کی بلیک مارکیٹ سے بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد خریدا جا سکے۔ یہ دھماکہ خیز مواد آتش بازی کے سامان کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ملزمان ایسے طریقے بھی ڈھونڈتے رہے، جن کی مدد سے دھماکا خیز مواد کی طاقت کو بڑھایا جا سکے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق مہاجرین کے مخالف انتہا پسندوں کی طرف سے جرمنی میں اوسطاﹰ روازنہ ایک مہاجر کیمپ کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جرمنی ميں مہاجرين کی ريکارڈ تعداد ميں آمد کی وجہ سے انتہائی دائيں بازو کی کچھ شدت پسند قوتيں زور پکڑتی جا رہی ہيں اور گزشتہ مہينوں کے دوران پناہ گزينوں کی رہائش گاہوں پر حملوں ميں اضافہ بھی ريکارڈ کيا گيا ہے۔

جرمنی میں انتہائی دائيں بازو کے مختلف گروپ مہاجرين کے کيمپوں اور ديگر مقامات پر گزشتہ برس جنوری سے لے کر نومبر کے وسط تک تقريباً 1300 حملوں ميں ملوث پائے گئے تھے۔ 2014ء میں ايسے حملوں کی مجموعی تعداد 482 ریکارڈ کی گئی تھی۔