1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن انتخابات: اے ایف ڈی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

جرمنی میں مہاجرین اور اسلام مخالف سیاسی جماعت اے ایف ڈی جرمن پارلیمان میں پہلی مرتبہ جرمنی کی تیسری بڑی جماعت بن کر پہنچی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد جرمنی بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

جرمن انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ (اے ایف ڈی) کی حیران کن کامیابی کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں اس جماعت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ انتخابات کے اعلان کے فورا بعد دارالحکومت برلن میں تقریبا سات سو مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے اس جماعت کی کامیابی کے خلاف احتجاج کیا۔

یہ جماعت انتخابات میں تقریبا تیرہ فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس طرح جرمنی میں اتنے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی تیسری بڑی جماعت بن گئی ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یہ جماعت جرمن پارلیمان تک پہنچی ہے۔ گزشتہ روز جس عمارت کے باہر احتجاج کیا گیا، اس ے اندر اے ایف ڈی کے کارکن اپنی جیت کا جشن منا رہے تھے۔

میرکل کی مایوس کُن فتح

مظاہرین، ’نسل پرستی کا نام آلٹرنیٹیو نہیں ہے‘ اور ’ اے ایف ڈی نسل پرستوں اور نازیوں کا جتھہ ہیں‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ یاد رہے کہ  برلن سٹی پارلیمان کی 160 سیٹوں میں سے 23 اے ایف ڈی کے پاس ہیں۔ بعد ازاں ان مظاہروں میں شدت پیدا ہوتی گئی، جسے مدنظر رکھتے ہوئے پولیس نے اے ایف ڈی کے کارکنوں کو محفوظ طریقے سے اس عمارت سے نکال لیا۔

جرمنی میں نئی حکومت کیسی ہو گی؟

مظاہرے میں شریک بائیس سالہ لیزا کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس طرح کے احتجاجی مظاہرے زیادہ سے زیادہ ہونے چاہیئں، ’’خاص طور پر ایسے حالات میں یہ بہت ضروری ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم نسل پرستی کے خلاف بولیں، دائیں بازو کے انتہاپسند نظریات کے خلاف نکلیں۔‘‘

بالکل اسی طرح جرمن شہر کولون میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ اس کے علاوہ جن جرمن شہروں میں اے ایف ڈی مخالف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، ان میں ہیمبرگ، فرینکفرٹ، میونخ، ڈوسلڈورف، گوٹینگن، لائپزگ اور کئی دیگر بڑے شہر شامل ہیں۔

جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر جوزف شُسٹر کا کہنا تھا کہ بدترین خدشات سچ ثابت ہوئے ہیں، ’’ایک ایسی جماعت جو انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھتی ہے اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دیتی ہے، آج نہ صرف صوبائی اسمبلیوں کا حصہ بن چکی ہے بلکہ اب پارلیمان میں بھی آ کر بیٹھ گئی ہے۔‘‘

دریں اثناء یورپ کی دیگر دائیں بازو کی انتہاپسند تنظیموں نے بھی اے ایف ڈی کو مبارکباد کے پیغامات ارسال کیے ہیں۔

DW.COM