1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن امداد کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے؟

جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل چھوٹی جماعت ایف ڈی پی سے تعلق رکھنے والے ترقیاتی امداد کے وفاقی وزیر نِیبل چاہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کو ترقیاتی امداد کے طور پر فراہم کی جانے والی جرمن رقوم کے تعین کا مجموعی پیداوار ک

default

جرمنی کی مخلوط حکومت میں شامل چھوٹی جماعت ایف ڈی پی سے تعلق رکھنے والے ترقیاتی امداد کے وفاقی وزیر نِیبل چاہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں کو ترقیاتی امداد کی فراہمی کے تعین کا مجموعی پیداوار کے حوالے سے فیصدی نظام تبدیل ہونا چاہیے۔

ان کی خواہش ہے کہ اس امداد کو زیادہ مؤثر بنانے کے لئے انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں ترقیاتی امداد کے موجودہ جرمن وزیر ڈِرک نِیبل کے عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک جرمنی کی طرف سے مہیا کی جانے والی ترقیاتی امداد سے متعلق حکومتی سوچ کافی بدل چکی ہے۔ انہوں نے وزارتی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ چین کو دی جانے والی جرمن ترقیاتی امداد بند کر دینا چاہیے۔ جنوری میں اس جرمن وزیر نے کئی افریقی ملکوں کا دورہ کیا اور مارچ کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ویت نام اور کمبوڈیا جیسے ایشیائی ملکوں کا بھی۔ جرمن ترقیاتی امداد زیادہ تر افریقہ اور ایشیا ہی کی ترقی پذیر ریاستوں کو مہیا کی جاتی ہے۔

ڈِرک نِیبل چاہتے ہیں کہ جرمنی اس مد میں ترقی پذیر ملکوں کو جو رقوم مہیا کرتا ہے، ان کی

Entwicklungshilfeminister Dirk Niebel (FDP)

ترقیاتی امداد کے وفاقی وزیر نِیبل

مالیت اس وقت مجموعی قومی پیداوار کے 0.4 فیصد سے بڑھا کر 2015 تک 0.7 فیصد کر دی جائے۔ اب انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ ترقیاتی امداد کے طور پر جتنی بھی رقوم مختص کی جاتی ہیں، انہیں کتنی اچھی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

’’ہم اپنے اس ہدف پر قائم ہیں۔ لیکن اس بات سے قطع نظر کہ مستقبل میں ہم اس ہدف پر قائم رہتے ہیں یا نہیں، سب سے فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ ہماری طرف سے مہیا کی جانے والی یہ امداد کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ انسان چاہے امداد کے طور پر جتنی بھی رقوم دے دے، اگر ان کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو ان کی شرح بڑھانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‘‘

جرمنی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے وہ سیاستدان جو ان دوروں پر ڈِرک نِیبل کے ہمراہ گئے تھے، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دوسرے ملکوں کے لئے ترقیاتی امداد کے طور پر مختص کی جانے والی رقوم کی مالیت میں اضافے کا ہدف ترک نہیں کیا جانا چاہیے۔

ماحول پسندوں کی گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے تِھیلو ہوپے، جو 2005 سے 2009 تک وفاقی پارلیمان کی ترقیاتی امداد سے متعلق کمیٹی کے سربراہ بھی رہے ہیں، کہتے ہیں:

’’ظاہر ہے کہ ہمیں بہت مؤثر اور دانشمندانہ طور پر تیار کی گئی ترقیاتی سیاست کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمیں زیادہ رقوم بھی درکار ہیں۔‘‘

تِھیلو ہوپے کے بقول جرمنی کو ان رقوم کی مالیت میں اضافہ بھی کرنا چاہیے اور ان کے استعمال کو بھی بہتر بنایا جانا چاہیے۔

رپورٹ: مقبول ملک / مارسَیل فیُورسٹے ناؤ

ادارت: افسر اعوان