1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن الیکشن اور نوجوانوں کے سیاسی رجحانات

جرمنی کے نوجوان ووٹر ملکی سیاست میں بڑی پارٹیاں کی بجائے نئے گروپوں، جماعتوں اور اتحادوں کی طرف زیادہ مائل ہیں۔ جرمنی میں انتخابات کے موقع پر نوجوان ووٹروں کے رجحانات اور سوچ کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

default

انفراٹیسٹ سروے کے مطابق بڑی جماعتیں نوجوان ووٹروں اور ان کی ترجیحات پر زیادہ توجہ نہیں دی رہیں اور جرمنی میں مستقبل کی سیاست میں نوجوان طبقہ نئی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اٹھارہ سے چوبیس سال کے جرمن ووٹروں میں سے صرف آٹھ فیصد، چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت CDU کے حق میں ہیں جبکہ صرف نو فیصد کے خیال میں فرنک والٹر شٹائن مائر اور ان کی جماعت SPD بہتر ہیں۔

Angela Merkel Frank-Walter Steinmeier TV Duell Fernsehduell

گو کہ ان نوجوان ووٹروں کے کسی جماعت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا ان انتخابات پر کوئی واضح فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جرمن انتخابات میں ان نوجوان ووٹروں کا تناسب صرف دس فیصد ہے تاہم مستقبل کی سیاست میں یہ نوجوان ایک نئے موڑ کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان جرمن ووٹرز دیوار برلن کے انہدام کے بعد پیدا ہوئے ہیں لہذا ان ووٹروں کی ترجیحات اور سیاسی دلچسپیاں بزرگ جرمن شہریوں جیسی نہیں۔

سروے رپورٹ جاری کرنے والے انفراٹیسٹ ادارے کے سربراہ رچرڈ ہیلمر کے مطابق ان نوجوان ووٹروں کی ترجیحات اور سوچ کا خیال نہ تو انگیلا میرکل نے رکھا ہے اور نہ ہی شٹائن مائر نے، کیونکہ ان کی تعداد فی الحال قابل توجہ نہیں سمجھی جا رہی۔

’’دونوں اہم امیدواروں نے ان نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے۔ ان نوجوانوں کوکچھ نیا دیکھنے کو نہیں ملا۔‘‘

انفراٹیسٹ کے مطابق ان نوجوانوں کا رجحان حال ہی میں منظر عام پر آنے والی پائریٹ پارٹی کی جانب زیادہ ہے۔ اس پارٹی کا انتخابات میں نعرہ ہے کہ انٹرنیٹ پر سینسر شپ کو ختم ہونا چاہئے۔ رواں ماں جرمن سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ سٹوڈئے فاؤ زیٹ کے مطابق دو لاکھ ممبران نے ایک الیکشن سروے میں حصہ لیا اور ان افراد نے پائریٹ پارٹی کی حمایت کی۔

Deutschland Wahlen Plakat SPD und CDU Angela Merkel und Frank-Walter Steinmeier

انفراٹیسٹ سروے کی اس تازہ رپورٹ کے مطابق 28 فیصد نوجوان ووٹروں کے خیال میں نئے گروپوں کی حمایت کی جانی چاہئے، جنہیں اب تک جرمنی کے وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں میں جگہ نہیں ملی۔ سروے کے مطابق جرمن پارلیمان میں اس وقت موجود جماعتوں میں گرین پارٹی کو سب سے زیادہ نوجوان ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔

جرمن شہریوں کی اس وقت عمر کا اوسط بیالیس سال ہے، جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمنی میں بزرگ شہری ووٹروں کا ایک تہائی ہیں۔

SPD کے انتخابی اشتہارات میں چمکتے سفید بالوں والے شٹائن مائر کو بزرگوں کے ہمراہ دکھایا گیا ہے۔ وہ اشتہار میں پینشن لینے والے بزرگ شہریوں کے درمیان گھلے ملے دکھائی دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ ان کے مفادات کا خیال رکھیں گے۔

نوجوان ووٹروں کی توجہ اور ان سے تخاطب میں امریکی انتخابات کی مثال واضح ہے جہاں نوجوانوں نے صدر باراک اوباما کی انتخابی مہم کو چند ہی دنوں میں ملک کے کونے کونے میں پھیلا دیا۔ باراک اوباما کی انتخابی مہم کا نعرہ تھا ’’Yes We Can‘‘ یعنی ہاں ہم کر سکتے ہیں۔ یہ نعرہ نوجوانوں میں اتنا مقبول ہوا کہ اوباما کی مقبولیت کے گراف کو ان نوجوانوں نے کسی طور کم نہ ہونے دیا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عدنان اسحاق