1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن افواج کے سربراہ کا تمام فوجی بیرکوں کے معائنے کا حکم

وفاقی جرمنی کی مسلح افواج کے سربراہ نے تمام فوجی بیرکوں کے معائنے کا حکم دیا  ہے۔ یہ حکم نامہ ایک فوجی چھاؤنی میں تفتیش کاروں کو نازی دور کی عسکری یادگاریں ملنے کے بعد جاری کیا گیا۔

جنوب مغربی جرمنی کے شہر ڈوناؤ اَیشِنگن میں قائم فوجی بیس کی بیرکوں میں چھان بین کے دوران ایک آرمی افسر کے کمرے سے یادگاری مصنوعات کے طور پر نازی دور میں زیر استعمال رہنے والی فوجی اشیاء ملی تھیں۔ مذکورہ فوجی افسر کو نسلی تعصب کی بناء پر ممکنہ حملے کے شبے میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اسی لیے اب وفاقی جرمن فوج کے انسپکٹر جنرل فولکر وِیکر نے ملک کی تمام فوجی بیرکوں کی وسیع پیمانے پر تلاشی کا حکم دیا ہے۔

اس حوالے سے وفاقی جرمن وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے بتایا، ’’انسپکٹر جنرل نے یہ دیکھنے کے لیے کہ آیا سن 1925 سے سن 1945 تک کی جرمن فوج اور نازی دور کی باقیات اور علامات کے حوالے سے موجودہ ملکی قوانین کی پیروی کی جا رہی ہے، تمام متعلقہ عوامل کی جانچ کا حکم دیا ہے۔‘‘

وفاقی جرمن وزیر دفاع اُرزُلا فان ڈیئر لائن نے گزشتہ شام جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی جرمن فوج کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں دائیں بازو کی ممکنہ انتہا پسندی کا سدباب کرے۔ فان ڈیئر لائن نے مزید کہا، ’’ہمیں اب زیادہ سختی سے فوج میں چھان بین کی ضرورت ہے۔ تفتیشی عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے اور کئی نئے حقائق کا سامنے آنا متوقع ہے۔‘‘

Frankreich Bundesverteidigungsministerin Ursula von der Leyen in Illkirch (Reuters/V. Kessler)

جرمن وزیر فاع کے مطابق ملکی فوج نے اپنی صفوں میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا

وفاقی جمہوریہ جرمنی میں نازی دور کی اشیاء مثلاﹰ نازی پارٹی کے نشان کی نمائش کرنا مروجہ قانون کے تحت ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ تاہم سن انیس سو پچیس سے سن انیس سو پینتالیس تک کی جرمن فوج کے استعمال میں رہنے والی اشیاء کا کسی کے پاس ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے البتہ جرمن وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ موجودہ وفاقی جرمن فوج میں سن 1945 تک کی جرمن فوج کی عسکری یادگاروں کے لیے کسی نرم گوشےکو برداشت نہیں کریں گی۔

فان ڈیئر لائن نے کہا کہ خود کو بطور ایک شامی مہاجر کے رجسٹر کروانے والے جرمن فوجی افسر نے ممکنہ طور پر چند دیگر افراد کے ساتھ مل کر اپنے پاس فائرنگ کے لیے استعمال ہونے والی قریب ایک ہزار گولیاں چھپا رکھی تھیں تاہم وفاقی دفتر استغاثہ کی طرف سے ابھی تک اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ فان ڈیئر لائن نے یہ بھی کہا کہ اس ملزم کا مقصد غالباﹰ کوئی دہشت گردانہ حملہ کر کے اس کا الزام تارکینِ وطن کے سر لگانا تھا۔

جرمن وزیر فاع کے مطابق ملکی فوج نے اپنی صفوں میں دائیں بازو کی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک ابتدائی رپورٹ کے مطابق فوجی بیرکوں کا معائنہ کل منگل نو مئی سے شروع ہو گا اور اس معائنے کے نتائج 16 مئی تک سامنے آ جائیں گے۔

DW.COM