1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن اسکول میں نقاب کی اجازت نہیں، عدالتی فیصلہ

جرمن شہر اوسنا برُوک کی ایک طالبہ نقاب کے ساتھ اسکول نہیں جا سکے گی۔ یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب نقاب کے حوالے سے جرمنی بھر میں ایک بحث چل رہی ہے۔

یہ طالبہ نقاب کے ساتھ اسکول میں اپنا تعلیمی عمل جاری رکھنا چاہتی تھی تاہم ایک مقامی انتظامی عدالت نے اس کی یہ خواہش رد کردی۔ جرمنی کی شمالی ریاست لوئر سیکسنی کے شہر اوسنا برُوک میں شام کے اوقات میں کام کرنے والے اسکول ’سوفی شول‘ (Sophie Scholl) کی انتظامیہ نے ابتدائی طور پر اس طالبہ کو کلاسیں پڑھنے کی اجازت دی تھی تاہم جب ان پر یہ واضح ہوا کہ یہ طالبہ کس طرح کا لباس پہننا چاہتی ہے تو انہوں نے یہ اجازت واپس لے لی۔

جمعہ 19 اگست کو اس طالبہ نے اوسنا برُوک کی انتظامی عدالت میں درخواست دائر کی۔ یہ کیس محض تین دن بعد یعنی آج پیر 22 اگست کو سنا گیا۔ عدالتی کارروائی تیز رفتاری سے مکمل کی گئی کیونکہ ایک عدالتی ترجمان کے مطابق، ’’اسکول کا ہر دن قیمتی ہے‘‘۔

عدالت نے اس طالبہ کو حکم دیا کہ وہ بذات خود عدالت میں نقاب پہننے کی وجوہات کا دفاع کرے۔ تاہم میڈیا کی بہت زیادہ توجہ کے باعث اس طالبہ نے ایسا کرنے سے معذرت کر لی تو عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ اس کے پاس اب ممکنہ ایکشن صرف یہی بچا ہے کہ اس کی درخواست کو رد کردیا جائے۔

اس طالبہ کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں سوائے اس کے کہ وہ جرمن شہری ہے اور اب کم عمر نہیں ہے۔ جرمنی میں اس کا مطلب ہے کہ اس طالبہ کی کم از کم عمر 18 برس ہے۔

برقع عام طور پر افغانستان وغیرہ میں استعمال کیا جانے والا پردہ ہے جس میں کسی خاتون کا چہرے سمیت پورا جسم پردے میں ہوتا ہے

برقع عام طور پر افغانستان وغیرہ میں استعمال کیا جانے والا پردہ ہے جس میں کسی خاتون کا چہرے سمیت پورا جسم پردے میں ہوتا ہے

’سوفی شول‘ جیسے رات کے وقت لگنے والے اسکول عام طور پر ایسے بالغ افراد کے لیے ڈپلوما وغیرہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو بطور ٹین ایجر کسی وجہ سے اسکول سے یہ ڈپلوما حاصل نہیں کر پاتے۔

جرمنی میں ان دنوں برقع پہننے یا پورے چہرے کا نقاب لینے کا معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جرمنی کے ایسے صوبوں کے وزرائے داخلہ کی طرف سے جہاں قدامت پسند جماعت سی ڈی یو کی حکومت ہے، یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ عوامی مقامات پر برقع پہننے یا نقاب لینے پر پابندی عائد کی جائے۔

خیال رہے کہ نقاب لینے والی خاتون کا آنکھوں کے سِوا پورا چہرہ پردے کے پیچھے ہوتا ہے جبکہ برقع عام طور پر افغانستان وغیرہ میں استعمال کیا جانے والا پردہ ہے جس میں کسی خاتون کا چہرے سمیت پورا جسم پردے میں ہوتا ہے جبکہ آنکھوں کے سامنے بھی ایک جالی ہوتی ہے جس سے وہ باہر دیکھ سکتی ہیں۔ ناقدین کی طرف سے اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ برقع یا نقاب کی صورت میں متعلقہ خواتین کی شناخت میں مشکل پیش آتی ہے اور خاص طور پر ایسے حالات میں جب سکیورٹی خدشات موجود ہیں یہ چیز سکیورٹی حکام کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے۔