1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن اسکول میں فائرنگ، سولہ افراد ہلاک

حکام کے مطابق جنوبی جرمن علاقے میں ایک مسلح شخص نےاسکول کے اندر فائرنگ کرکے دس طالب علموں سمیت کم از کم پندرہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ طالب علموں پر فائرنگ کرنے والے اس حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

default

واقعے کے بعد پولیس اہلکار تفتیش میں مصروف

جرمن پولیس کے مطابق سیاہ کپڑوں میں ملبوس اس نوجوان نے شٹٹ گارٹ کے نزدیک قصبے وینین ین کے اسکول کے اندر بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے اندھادھند فائرنگ کی۔ اس واقعے کے فوراً بعد ہی پولیس نے اسکول کی عمارت کا گھیراوٴ کیا اور علاقے کا محاصرہ کیا۔ جرمن حکام کے مطابق حملہ آور کی عمر سترہ برس تھی اور وہ ماضی میں اسی اسکول کا طالب علم رہ چکا تھا۔ اس سے قبل مقامی اخبار وینین ڈیر زائڈنگ کے مدیر فرانک نپکاٴو نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ کم از کم آٹھ طالب علم اس واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ٹیلی ویژن رپورٹوں میں پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ حملہ آور کی عمر پچیس سال کے لگ بھگ تھی۔

وائی بلنگن کے مقامی اخبار سے تعلق رکھنے والے صحافی فرانک نِپ کاؤ نے بتایا:’’موقع پر موجود ہمارے رپورٹر نے جو معلومات فراہم کی ہیں، اُن سے یہ واضح ہے کہ ممکنہ طور پر دو طلبہ نہیں بلکہ مجموعی طور پر دَس افراد مارے گئے ہیں۔ پولیس نے ابھی تصدیق نہیں کی لیکن ہمیں پتہ چلا ہے کہ مرنے والوں میں آٹھ اسکول طلبہ ہیں اور دو باہر کے افراد ہیں۔‘‘

’’صبح ساڑھے نو بجے سیاہ کپڑوں میں ملبوس ایک مرد البروِل اسکول میں داخل ہوا اور اُس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد وہ شہر کے مرکزی حصے کی جانب فرار ہو گیا۔ پولیس نے اسکول اور شہر کے وسطی حصے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔‘‘

خاندانی امور سے متعلق وفاقی جرمن وزیر اُرسُلا فان ڈیئر لایَن نے اِس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

’’یہ خبر ہلا کر رکھ دینے والی ہے۔ کچھ سمجھ ہی نہیں آتی کہ انسان کہے تو کیا کہے۔ سب سے پہلے تو یہ سوچا جانا چاہیے کہ اس طرح سے واقعات سے بچنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے اور اسکولوں میں کیا تیاریاں کی جا سکتی ہیں۔ پوری دنیا میں اِس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کیوں کوئی شخص اتنا جنونی ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی غور کیا جانا چاہیے کہ خاص طور پر اسکولوں میں کیسے اِس طرح کے ہولناک واقعات کا پہلے سے ادراک کیا جا سکتا ہے اور اِنہیں روکا جا سکتا ہے۔‘‘