1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن اسلحے کی برآمدات 7.5 بلین تک پہنچ گئیں

جرمنی کے وزیراقتصادیات زیگمار گابریئل نے کہا ہے کہ جرمنی اسلحے کی برآمدات کے لیے لائسنس جاری کرنے کا عمل مزید سخت بنائے گا۔ مگر ڈی ڈبلیو کی ناؤمی کونراڈ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی نے اسلحے کی ریکارڈ فروخت کی ہے۔

جرمنی کے وائس چانسلر اور اکنامک منسٹر زیگمار گابریئل نے جمعہ 19 فروری کو برلن میں صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ برس یعنی 2015ء کے دوران جرمنی نے 7.5 بلین یورو کا اسلحہ برآمد کیا۔ جرمن ہتھیاروں کی یہ فروخت اس سے گزشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصد زائد ہے۔

جرمنی دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنے والے چار ممالک میں شامل ہے۔ تاہم گابریئل کا جو سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، کہنا ہے کہ وہ اسلحے کی برآمد کے حوالے سے پالیسی کو مزید سخت بنائیں گے، خاص طور پر مشرق وُسطیٰ کے علاقے کے لیے۔ ماضی میں گابریئل کہہ چکے ہیں کہ ملک کے برآمدات کے حوالے سے قوانین کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اسلحے کی صنعت کے مفادات کو سرفہرست رکھا گیا۔

چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں کی فروخت میں کمی


ہتھیاروں کے برآمد کی اجازت جرمنی کی اکنامک منسٹری کی طرف سے دی جاتی ہے اور یہ اجازت دراصل حکومت کی سیاسی گائیڈلائن کے مطابق دی جاتی ہے جس میں نہ صرف انسانی حقوق کے معاملات کا خیال رکھا جاتا ہے بلکہ یہ لحاظ بھی رکھا جاتا ہے کہ تنازعات کے شکار خطوں میں ہتھیار فروخت نہ کیے جائیں۔ تاہم ’خصوصی خارجہ اور سکیورٹی مفادات‘ کے پیش نظر اس طرح کی اجازت دی بھی جا سکتی ہے۔

جرمن اکنامک منسٹر کے مطابق اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد سے باہر کے ممالک کو اسلحے کی فروخت میں کمی لائی جائے۔

’’گزشتہ برس کے دوران ہتھیاروں کی زیادہ تر فروخت جمہوری ریاستوں کو کی گئی‘‘

’’گزشتہ برس کے دوران ہتھیاروں کی زیادہ تر فروخت جمہوری ریاستوں کو کی گئی‘‘

اسی باعث 2014ء کے مقابلے میں گزشتہ برس چھوٹے ہتھیاروں کی فروخت میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ خانہ جنگی اور تنازعات کے دوران عام طور پر اسی طرح کے ہتھیار ہی استعمال ہوتے ہیں۔ 2015ء کے درمیان ایسے ہتھیاروں کی فروخت 33.9 ملین یورو رہی اور جرمن حکومت کے مطابق یہ گزشتہ 15 برس کے دوران کم ترین فروخت ہے۔

اس کے علاوہ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد سے باہر کے ممالک کو ہلکے ہتھیاروں کی فروخت میں بھی 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ گابریئل کے مطابق یہ دراصل حکومتی پالیسی میں بڑی تبدیلی کے باعث ممکن ہوا ہے۔


جرمن وزیر اقتصادیات زیگمار گابریئل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ گزشتہ برس کے دوران ہتھیاروں کی زیادہ تر فروخت جمہوری ریاستوں کو کی گئی۔ مثال کے طور پر برطانیہ کو چار ٹینکر ایئرکرافٹ فروخت کیے گئے جبکہ جنوبی کوریا کو گائیڈڈ میزائل نظام فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ سفارت خانوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ بُلٹ پروف شیشے کی فروخت اور الجیریا کو غیر مسلح ٹرکوں کی فراہمی وغیرہ اس میں شامل ہیں۔