1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن ارکان پارلیمان کا ترک ایئر بیس کا دورہ

جرمن ارکان پارلیمان کا ایک وفد آج جمعہ آٹھ ستمبر کو ترکی کی ایک ایئر بیس کا دورہ کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد اس ایئر بیس پر تعینات جرمن فوجیوں سے ملاقات کرنا ہے۔ یہ معاملہ کئی ماہ سے نزاع کا باعث بنا ہوا تھا۔

جرمن ارکان پارلیمان کے ایک گروپ کو ترکی میں قائم مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ایک ایئر بیس کے دورے کی اجازت دینے کا معاملہ ترکی اور جرمنی کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے تناؤ کا باعث بنا ہوا تھا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے سات ارکان کا ایک وفد آج جمعے کے روز ترکی کے وسطی علاقے میں قائم کونیا ایئر بیس کا دورہ کر رہا ہے۔ اس ترک ایئر بیس پر جرمنی کے قریب 30 فوجی تعینات ہیں۔ یہ فوجی تعیناتی نیٹو مشن کا حصہ ہے۔

انقرہ حکومت کی طرف سے رواں برس جولائی میں جرمن ارکان پارلیمان کو کونیا ایئر بیس کے دورے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ انقرہ اور برلن کے تعلقات میں کشیدگی کو قرار دیا گیا تھا۔

اس سے قبل جون میں جرمن حکومت نے ترکی کے انجرلیک ایئر بیس پر تعینات اپنے فوجیوں کو وہاں سے نکال کر انہیں اردن میں تعینات کر دیا تھا۔ اس کی وجہ بھی ترک حکومت کی طرف سے جرمن ارکان پارلیمان کو ملک کے جنوب مشرق میں واقع اس ایئر بیس کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دینا تھا۔ اس سلسلے میں جرمن حکومت کی طرف سے متعدد بار کی گئی کوششوں کا ترک حکومت کی طرف سے منفی جواب ملا تھا۔

جرمن فوجیوں کی اس تعیناتی کا مقصد دراصل امریکی سربراہی میں قائم اس فوجی اتحاد کو مدد فراہم کرنا ہے جو دہشت گرد تنظيم داعش کے خلاف شام اور عراق میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق جرمن ارکان پارلیمان کے کونیا کے اس دورے کا معاملہ نیٹو کے سربراہ ژینس اشٹولٹن برگ کی مداخلت کے بعد طے پایا ہے۔ جرمن فوج خود کو ’’پارلیمانی فوج‘‘ قرار دیتی ہے یعنی فوج کی کسی بھی تعیناتی کا فیصلہ جرمن پارلیمان میں ووٹنگ کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ اسی لیے جرمن پارلیمان کی ایک دفاعی کمیٹی تمام غیر ملکی تعیناتیوں کا وقتاﹰ فوقتاﹰ جائزہ لیتی رہتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:12

ترکی اور جرمنی کے کشیدہ تعلقات کی وجہ کیا ہے؟

Audios and videos on the topic