1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن ارکان پارلیمان پاکستان میں

جرمن پارلیمنٹ کی ہوم افیئرز کمیٹی کے چیئرمین سباسیان اڈا تھی کی سربراہی میں اس وفد کے ارکان نے منگل کے روز لاہور میں سابق وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے ملاقات کی۔

default

جرمن وفد کے سربراہ نے نواز شریف سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ تعمیری سوچ کے مالک ہیں

جرمنی کے ارکان پارلیمان کا ایک پانچ رکنی وفد آج کل پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔ نواز شریف سے ملاقات کے بعد ریڈیو ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفگتو کرتے ہوئے جرمنی کے ارکان پارلیمنٹ کے وفد کے سربراہ سباسیان اڈا تھی کا کہنا تھا کہ مشکلات میں گھرے ہوئے پاکستان میں جاری جمہوری عمل کو ایسے ذمہ دار سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو پارٹی سیاست سے بالا تر ہو کر ملکی مفاد میں سوچ سکیں۔ انہوں نے نواز شریف کی سوچ کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) وفاقی حکومت سے الگ ہو جانے کے باوجود قومی اہمیت کے معاملات میں اتحادی جماعتوں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

جرمن رکن پارلیمنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان جرمنی کے لئے ایک اہم ملک ہے ۔اس لئے جرمنی پاکستان کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے میں دلچپسی رکھتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی نے حال ہی میں ایک ممتاز سفارت کار کو پاکستان اور افغانستان کے لئے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے ۔

مبصرین کے مطابق یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ جرمنی کی پاکستان کے امور میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ جرمن وفد کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی کے سرمایہ کاروں کے لئے پاکستان میں کافی کاروباری مواقع موجود ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ جرمنی کے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جانے چاہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی پاکستان میں حالات بہتر ہونے کے بعد لفتھانزا ایئر لائنز سمیت کئی دیگر ادارے دوبارہ پاکستان میں اپنی کاروباری سر گرمیاں شروع کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد ان پاکستانیوں سے کم ہے جو جرمنی میں آباد ہیں لیکن پھر بھی پاک جرمن تجارت کا حجم پاکستان کی برطانیہ کے ساتھ ہونے والی کل تجارت سے بھی زیادہ ہے۔ ان کے مطابق پاک جرمن تجارت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

سباسیان اڈاتھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جرمنی تعلیمی شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تین سو پچاس پاکستانی طلبا مختلف سکالرز شپ پر جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اگلے ہفتے جرمنی واپس جا کر حکومت سے سفارش کریں گے کہ ان وظائف کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے۔

ممبئی بم دھماکوں کے بعد کی صورت حال کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے ۔ یہ دونوں ملک باہمی مفاہمت اور تعاون سے ہی دہشت گردی کا مقابلہ کر سکتے ہیں نہ کہ ایک دوسرے پر الزامات کی بو چھاڑ کر کے۔

پاکستان میں ایک ہفتے سے زائد قیام کے دوران جرمن پارلیمنٹ کے ارکان سیاسی رہنماﺅں حکومتی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ وفد کے ارکان بدھ کے روز لاہور سے کراچی جائیں گے اور پھر وہاں سے انکی اگلی منزل اسلام آباد ہو گی۔