1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن اخبارات کی نظر میں اس ہفتے کا جنوبی ایشیا

جنوبی ايشيا کے حالات وواقعات کے بارے ميں جرمن زبان کے پريس کے تبصروں پر مشتمل جائزہ:

default

جرمن اخبارات میں اس ہفتے پاکستان میں طالبان میں قیادت کے معاملے پر خونریز لڑائی اور بھارت میں غربت اور تعلیم کے مسئلہ موضوع بحث رہے

طالبان پاکستان کے قائد بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا ، جس کے بارےميں صورتحال اب بھی غير واضح ہے۔

اخبار Süddeutsche Zeitung تحريرکرتا ہے کہ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان ميں قيادت کے مسئلے پر ايک خونی کشمکش جاری ہے۔ ماہرين کے مطابق اس کی وجہ اس پر اختلاف رائے ہے کہ کيا طاقت کے استعمال کا نشانہ پاکستان کو بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے يا پھر ہمسايہ افغانستان ميں پوری قوت صرف کی جائے؟ اخبارNeue zürcher zeitung کے مطابق بيت اللہ محسود کے ذریعے تحريک طالبان پاکستان کے، القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ قريبی تعلقات تھے، ليکن اس کا اولين ہدف پاکستانی حکومت، فوج اور پوليس کو نشانہ بنانا تھا۔ پچھلے برسوں ميں اس نے پاکستان ميں درجنوں خودکش اور دوسرے شديد حملے کئے۔ ’’ايسا معلوم ہوتا ہے کہ اب طالبان ميں ايسے کمانڈر ہيں، جوجنوب مغربی پاکستان کے شہر کوئٹہ ميں چھپے ملا عمر کی اپيل پر عمل کرتے ہوئے، ہمسايہ ملک افغانستان ميں غير ملکی قابضين کے خلاف جنگ پر زيادہ توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہيں۔‘‘

تجارتی روزنامہ Handelsblat تحرير کرتا ہے کہ پچھلے برسوں کے دوران زرعی شعبے نے بھارتی اقتصاديات کو بہت سہارا ديا۔ فصليں اچھی تھيں اور خوشحالی ميں اضافہ ہوتا رہا۔ موبائل ٹيليفون، موٹر سائيکلوں اور ٹيليوژن سيٹس کی تعداد بڑھتی رہی۔ ليکن مون سون بارشوں ميں ايک چوتھائی کی کمی کی وجہ سے زراعت کو ملنے والا پانی بھی کم ہوگيا ہے، کسان اچھی فصليں نہيں اگا پا رہے ہيں اور بے رحم نفع خوروں کے قرضوں کے جال ميں پھنس رہے ہيں۔ غذائی اشياء کی قيمتيں بڑھتی جارہی ہيں، آمدنيوں کا بڑا حصہ انہی پر خرچ ہورہا ہے۔ روزنامہ مزید تحریرکرتا ہے کہ خشک سالی کا اثر پوری اقتصاديت پر پڑ رہا ہے۔

بھارتی پارليمنٹ نے چھ سے چودہ برس کے تمام بچوں کی لازمی تعليم کا قانون منظورکيا ہے ۔اخبار Tageszeitung تحرير کرتا ہے کہ اس قانون سے بھی بھارتی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ، امير اور غريب کے درميان مزيد وسيع ہوتی ہوئی بہت بڑی خليج ، حل نہيں ہوگا۔ اخبار تحرير کرتا ہے کہ ديہی علاقوں ميں غربت سنگين حدود کو چھو رہی ہے۔اس کی وجہ ملک کی اقتصاديت کو آزاد بنانا ہے، جس سے لاکھوں خوشحال تو ہوگئے ہيں، ليکن آبادی کا پانچواں حصہ مسلسل زيادہ بدحالی کا شکار ہوا ہے۔ آبادی کے اس طبقے کا انحصار اس پر ہے کہ بچے محنت مزدوری کريں، حالانکہ اسی غريب آبادی کے بچوں کے لئے تعليم کا حصول غربت اور استحصال کے شيطانی چکر کو توڑنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

تحریر : Ana Lehmann / شہاب احمد صدیقی

ادارت : عدنان اسحاق