1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن اخبارات میں اس ہفتے کا جنوبی ایشیا

جرمن اخبارات میں اس ہفتے جنوبی ایشیا کے حالات و واقعات میں ممبئی حملوں میںمبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف پاکستان میں مقدمے کا آغاز اوربھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک مرتبہ پھر ہنگامےاہم موضوعات رہے۔

default

پاکستان نے اعلان کيا ہے کہ پچھلے سال نومبر ميں بھارتی شہر ممبئی ميں دہشت گردانہ حملوں ميں ملوث ہونے کے الزام ميں پانچ افراد کے خلاف مقدمہ جلد شروع کر ديا جائے گا۔ اخبار Frankfurter Allgemeine Zeitung کے مطابق پاکستانی وزير داخلہ زحمان ملک کا کہنا ہے کہ مقدمے کے آغاز کے ذريعے پاکستان دہشت گردوں کے تعاقب کے سلسلے ميں اپنے سنجيدہ ہونے کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارتی، اپنے پڑوسی ملک ميں مقدمات کے بارے ميں مشکوک ہيں۔گيارہ ستمبر 2001 کے بعد سے پاکستان ميں بار بار دہشت گردگرفتار کئے جاتے رہے ہيں اور ان پر مقدمات بھی چلائے گئے ہيں، ليکن اب تک صرف ايک کيس ميں سزا سنائی گئی ہے۔ مبصرين کا خيال ہے کہ ممبئی ميں دہشت گردی کے ملزمان کے خلاف مقدمے کے آغاز کے اعلان کا تعلق مصر ميں غير جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس سے ہے، جس ميں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہوئی۔ پاکستان کو دونوں ملکوں کے مابين مذاکرات شروع ہونے سے بہت دلچسپی ہے ،جنہيں بھارت نے ممبئی ميں دہشت گردی کے بعد منقطع کر ديا تھا۔


چودہ جولائی کو فرانس کے قومی دن کے موقعے پر ہونے والی فوجی پريڈ ميں بھارت اعزازی مہمان تھا۔ بھارتی فوجيوں نے روايتی فوجی پريڈ کی قيادت کی۔ اخبار Neue Züricher Zeitung کے مطابق قومی دن کی تقريبات ميں بھارت کو مدعو کرنے کی خاص وجہ يہ ہے کہ صدر سارکوزی نئی دہلی کے ساتھ بہت اچھے اقتصادی اور سياسی تعلقات کو اور مضبوط بنانا چاہتے ہيں۔ فرانس بھارت کو اسلحہ برآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اگرچہ بھارت نے ايٹمی اسلحے کے عدم پھيلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہيں کئے ہيں ليکن فرانس پھر بھی جوہری ٹيکنالوجی کے پر امن استعمال کے ميدان ميں بھارت کے ساتھ تعاون کا خواہشمند ہے۔


اخبار ’’ٹاگیز سائی ٹُنگ‘‘ لکھتا ہے کہ کئی برسوں کے نسبتاً سکون کے بعد بھارت کے زیر انتظام کشمير ميں پھر ہنگامے شروع ہوگئے ہيں۔ ہلاک ہونے والے ايک طالبعلم کی تدفين کے موقع پر سيکيورٹی پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپيں ہوئيں۔ بھارتی حکومت نے چار ہفتے قبل خصوصی نيم فوجی دستوں کو بڑے شہروں سے ہٹانے کا اعلان کيا تھا۔اس کے بعد سے تشدد ميں نماياں اضافہ ہوا ہے ۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ کشمير ميں انتہا پسند قوتيں نيم فوجی دستوں کی موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہيں تاکہ ان کی سرگرميوں کے لئے سازگار تنازعے کی شدت کم نہ ہونے پائے۔

تحریر: Ana Lehmann/ شہاب احمد صدیقی

ادارت : امجد علی