1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن اخبارات میں اس ہفتے کا جنوبی ایشیا

جرمن اخبارات میں اس ہفتے پاکستانی فوج کا سوات میں بڑا آپریشن،کامیابی کے دعوے اور نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کی صورتحال مرکزی موضوع رہے۔

default

جرمن اخبارات میں پاکستانی فوج کے آپریشن مرکزی موضوع رہا

پاکستانی فوج کے مطابق اس نے سوات ميں طالبان کو شکست دے دی ہے۔اخبار Süddeutsche Zeitung لکھتا ہے:

’’ لڑائی ختم ہو چکی ہےاورمینگورہ ملبے اورخاک کا ڈھير بنا ہوا ہے۔ وادیء سوات کے اس سب سے بڑے اورخوبصورت شہرميں فوج اور طالبان کے درميان گھرگھرجنگ ايک ہفتے تک جاری رہی۔ ٹيليوژن کيمرے اوراخباری رپورٹر يہاں موجود نہيں تھے۔ بڑے پيمانے پرنقل مکانی سے پہلے ڈھائی لاکھ سے زائد آبادی والے اس شہر سے اطلاعات صرف فوج ہی فراہم کررہی تھی اوروہ مسلسل کاميابيوں کی خبريں دے رہی تھی۔ ليکن يہ پراپيگنڈا بھی ہوسکتا تھا، کيونکہ مغربی ملکوں ميں سوات کی لڑائی کوپاکستانی فوج کے، شدت پسندوں کے خلاف جنگ ک صلاحيت اورعزم کی آزمائش سمجھا جا رہا ہے۔‘‘

جريدہ Blätter für deutsche und internationale Politik کے خيال ميں ’’پاکستان اب بھی ايک ناکام ہوتی ہوئی ریاست ہے۔ تاہم بحران کی بہت سی علامات ابھی تک رياستی نظام کے ناقابل اصلاح حد تک کھوکھلا ہوجانے کی نشاندہی نہيں کررہی ہيں۔‘‘

جريدہ مزيد لکھتا ہے کہ فی الحال مرکزی صوبوں پنجاب اورسندھ کی سيکولر قوتيں اورچين اورامريکہ کے مفادات، لازمی طور سے موجودہ پاکستانی حکومت کی تو نہيں ليکن پاکستانی رياست کی مدد کررہے۔.پاکستان کے بارے ميں امريکی سياست کا مرکزی مسئلہ، توجہ باغيوں کی سرکوبی تک محدود رکھنا ہے، يعنی يہ کہ فوجی حل پر بہت زيادہ زور اورسياسی ذرائع کو نظر انداز کرنا۔ اس سياست ميں تبديلی کی اشد ضرورت ہے۔

جريدے نے مزيد لکھا ہے کہ اسلام پاکستان کے آئين میں شامل ہے اور وہ پاکستانی قوم کے مثبت تشخص کے لئے بہت اہم ہے۔ اس لئے يہ اچھا ہوگا کہ مغربی ممالک کی حکومتيں پاکستان کے رياستی مذہب کو اسلامی شدت پسندی کی حيثنت نہ ديں۔ اس کے علاوہ امريکہ اوراس کے اتحاديوں کی اپنے مفادات کی سياست سے اس جارحانہ شکل کو ختم ہونا چاہئے۔ ليکن ايسا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ مغربی صنعتی ملکوں اور چين اور بھارت کے، جو حربی دفاعی مفادات ہيں وہ اس وقت اتنے زيادہ طاقتور ہيں کہ يہ ممالک مستقبل قريب ميں اپنے مقاصد اور دائرہء اثر کو نہيں چھوڑيں گے اور پاکستان کو خود اپنی مرضی کے مطابق ترقی کرنے کا موقع نہيں ديں گے۔

تحریر : آنا لیہمن/ شہاب احمد صدیقی

ادارت : عاطف توقیر