1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن اخبارات میں اس ہفتے کا جنوبی ایشیاء

جنوبی ايشيا کے حالات وواقعات کے حوالے سے اس ہفتے جرمن پريس میں سوات میں پاکستانی فوج کے بڑے آپریشن اور بھارت میں منموہن سنگھ کے ایک مرتبہ پھر وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے کو بنیادی حیثیت حاصل رہی۔

default

پاکستان ميں فوج نے مئی کے شروع ميں طالبان کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد سے بہت سے اہم ٹھکانوں پردوبارہ قبضہ کرليا ہے۔اخبار Neue Zuricher Zeitung لکھتا ہے کہ اس دوران حکومت کی فوجی کارروائی کی،عوام کے وسيع طبقے حمايت کررہے ہيں۔ اخبار مزيد لکھتا ہے کہ سوات سے طالبان کی روزمرہ کی دہشت گردی، اسکولوں کو تباہ کرنے، سرعام کوڑے لگانےاور بڑے پيمانے پر سرقلم کرنے کی اطلاعات سے بہت زيادہ بے چينی پيدا ہوئی تھی۔ پاکستان کے زيادہ تراعتدال پسند عوام کو اس پرتشويش تھی کہ اسلام کے نام پربربريت کا مظاہرہ کرنے والے، دارا لحکومت سے صرف ايک سوکلوميٹر کے فاصلے پررہ گئے تھے۔ تاہم اگر وسيع عوامی حمايت سے طالبان کو سوات سے نکال باہر کرنے ميں کاميابی بھی ہوجاتی ہے تب بھی يہ مسئلے کا خاتمہ نہيں ہوگا کيونکہ اُن کا گڑھ افغانستان سے ملحقہ نيم خودمختار قبائلی علاقے ميں ہےجس پر حکومت کا ايک عرصے سےکنٹرول نہيں ہے۔ اس علاقے پر دوبارہ قبضہ سوات سے کہيں زيادہ مشکل ہوگا۔


اخبار Suddeutsche zeitung تحرير کرتا ہے کہ اگر سوات ميں فوج کی کارروائی بہت زيادہ عرصے تک جاری رہتی ہے اور اس ميں بہت زيادہ شہری ہلاک ہوتے ہيں، تو پھر صورتحال جلد الٹ ہوسکتی ہے۔ بيس لاکھ افراد جنگ سے پہلے ہی شمال مغربی پاکستان سے فرار ہوچکے ہيں۔ ان ميں سے بہت سے،اسلام آباد کے قريب حد سے زيادہ بھرے کيمپوں ميں رہ رہے ہيں جن ميں ہر ضروری چیز کی قلت ہے۔


اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ انتہائی ضروری اشياء کی فراہمی کے لئے پانچ سو تينتاليس ملين ڈالر کی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے اب تک تقريبا ايک سو ملين ڈالر کی ہنگامی امداد دی ہے۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے امداد کی ايک نئی درخواست عالمی مالياتی فنڈ کو ايک معمے سے دوچار کردے گی۔ ايک طرف تو پاکستان ايٹمی طاقت کی حيثيت سے اتنا اہم ہے کہ اسے مالی تباہی کا شکار نہيں ہونے ديا جاسکتا اور دوسری طرف اس کا کم ہی امکان نظر آتا ہے کہ عالمی مالياتی فنڈ کی شرائط ملک کو اقتصادی بحران سے نکال سکتی ہيں،جس کی سب سے بڑی وجہ سلامتی کی صورتحال ہے اور يہ ملک ميں ہرسرمايہ کاری کو ايک ايسا خطرہ بنا رہی ہے جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔


اخبر Neue zuricher zeitung تحرير کرتا ہے کہ وزيراعظم من موہن سنگھ کے الفاظ ميں ان کی حکومت کو انتخابات ميں جو زبردست کاميابی حاصل ہوئی ہے اس سے اسے پچھلے برسوں کے مقابلے ميں اصلاحات کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لئے بہتر مواقع ملے ہيں۔ سنگھ کی پراميدی کے لئے کافی وجوہات موجود ہيں۔ بيس برسوں ميں پہلی بار کانگريس پارٹی کو اپنی حکومت قائم رکھنے کے لئے کميونسٹوں پر انحصار نہيں کرنا پڑ رہا ہے۔ اس طرح ماہر اقتصاديات ڈاکٹرمنموہن سنگھ کو اپنی معاشی پاليسی کےنفاذ کے لئے زيادہ گنجائش حاصل ہوگی۔ حکومت اپنی کئی برسوں سے روکی جانے والی اصلاحات کو نافذ کرسکے گی۔