1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن اتحاد کی بیسویں سالگرہ کی مرکزی تقریب

1990 میں اتحاد جرمنی کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر وفاقی جرمن صدر کرسٹیان وولف نے آج اتوار کو شمالی جرمن شہر بریمن میں ہونے والی ایک مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ مشرقی جرمنی کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا۔

default

جرمن صدر وولف چانسلر میرکل کے ہمراہ، بریمن میں مرکزی تقریب کے موقع پر لی گئی ایک تصویر

چار ماہ سے بھی کم عرصہ قبل جرمن صدر کے عہدے پر فائز ہونے والے کرسٹیان وولف نے اپنے خطاب میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا کہ ماضی کی دو مختلف جرمن ریاستوں کا دو عشرے قبل عمل میں آنے والا اتحاد جرمن عوام کے لئے قومی سطح پر بڑے فخر کی بات ہے۔ لیکن ’’ساتھ ہی یہ بھی بہت ضروری ہے کہ جرمنی میں رہنے والے غیر ملکی تارکین وطن کے بہتر سماجی انضمام پر بھی پوری توجہ دی جائے۔‘‘

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر جرمن ریاست کی دو مختلف ملکوں میں تقسیم کے کئی عشرے بعد مشرقی اور مغربی جرمنی کا اتحاد تین اکتوبر 1990 کو عمل میں آیا تھا۔ یورپی اور عالمی سیاست میں بڑی تاریخی پیش رفت قرار دی جانے والی یہ تبدیلیاں دیوار برلن کے خاتمے کے گیارہ ماہ سے بھی کم عرصے بعد ممکن ہو گئی تھیں۔

Bremen Deutsche Einheit Merkel Wulff Böhrnsen

بریمن کے ٹاؤن ہال میں صدر وولف کی موجودگی میں چانسلر میرکل اہم مہمانوں کی کتاب میں اپنےتاثرات لکھتے ہوئے

آج اتوار کو بریمن میں ایک بہت بڑے شہری میلے میں ہزاروں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جرمن صدر کرسٹیان وولف نے کہا کہ دوبارہ متحد ہو چکے جرمنی میں اب حب الوطنی کا ایک ایسا جذبہ پایا جا تا ہے، جو مغربی حصے کے پرانے وفاقی صوبوں کے ساتھ ساتھ مشرقی حصے کے نئے وفاقی صوبوں میں بھی بھر پور انداز میں دیکھنے میں آتا ہے۔

تاہم جرمن صدر نے یہ بھی کہا کہ ٹھیک دو عشرے قبل 1990 میں آج ہی کے دن دوبارہ اتحاد کے بعد سے اب تک جو کچھ حا صل کیا جا چکا ہے، وہ بہت خوشی کا باعث اور تسلی بخش تو ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ حاصل کیا جا نا باقی ہے۔

جرمنی میں غیر ملکی تارکین وطن کے سماجی انضمام سے متعلق مشکلات کے بارے میں ملک میں نظر آنے والی حالیہ بحث کے پس منظر میں کرسٹیان وولف نے کہا کہ جرمن معاشرے میں تارکین وطن کے بہتر انضمام پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا: ’’جر منی کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ان تارکین وطن سے متعلق تعصب کو ہوا دی جائے یا انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے سے دور رکھا جائے۔‘‘

جرمن صدر نے اپنے خطاب میں خاص طور پر سابقہ مشرقی جرمنی کے ان شہریوں کی ہمت اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کیا، جن کی طرف سے پر امن انقلاب کا جذبہ اور اشتراکیت کی پابندیوں سے نجات کی خواہش ہی جرمن اتحاد کے عمل کا پہلا مرحلہ ثابت ہوئی تھی۔

اتحاد جرمنی کی سالانہ مرکزی تقریب اس سال بریمن میں اس لئے ہوئی کہ وفاقی جرمن پارلیمان کے صوبوں کے نمائندہ ایوان بالا کی صدارت اس وقت شمالی جرمنی کی اسی شہری ریاست کے پاس ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس