1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جرمنی کے ہزاروں عجائب گھر علم و دانش کے انتہائی اہم مراکز ہیں

بلاشبہ اسکول اور یونیورسٹیاں تعلیم کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہیں لیکن تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں لائبریریوں اور عجائب گھروں کا کردار بھی بے انتہا اہم ہوتا ہے۔ جرمنی میں عجائب گھروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔۔

default

میونخ میں جرمنی کا سب سے بڑا عجائب گھر

دُنیا کے کسی بھی ملک میں اتنے زیادہ عجائب گھر نہیں ہیں، جتنے کہ یہاں جرمنی میں۔گذشتہ چند عشروں کے دوران اِس تعداد میں اور بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور آج کل یہاں چھ ہزارسے بھی زیادہ عجائب گھر قائم ہیں۔ اِن سے استفادہ کرنے والے خواتین و حضرات کی سالانہ تعداد ایک سو ملین بھی کہیں زیادہ بنتی ہے۔

صرف دارالحکومت برلن ہی میں 147 عجائب گھر ہیں، ایک ایسی تعداد، جس کا جرمنی میں کوئی دوسرا شہر دُور دُور تک بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وجہ یقیناً یہ ہے کہ عشروں تک یہ شہر مشرقی اور مغربی حصے میں تقسیم رہا اور یہ دونوں حصے الگ الگ ثقافتی مراکز کے طور پر ترقی کرتے رہے۔جب جرمنی پھر سے متحد ہو گیا تو شہر کے دونوں حصوں کے اوپیراز، یونیورسٹیوں، لائبریروں اور عجائب گھروں کی تعداد مل کر دگنی تگنی ہو گئی۔

Büste der Nofretete in Berlin

نوفرے تیتی کا تین ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا مجسمہ آج کل برلن کے مصری عجائب گھر کی بجائے اولڈ میوزیم میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں یہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے ہوا کرتا تھا۔

برلن کے وَسط میں ایک علاقہ تو کہلاتا ہی ہے، عجائب گھروں کا جزیرہ۔ تاہم یہاں واقع فنونِ لطیفہ کے کئی پرانے عجائب گھروں کی حالت کمیونسٹ مشرقی جرمن دَورِ حکومت میں کافی ابتر ہو گئی تھی۔ جرمن حکومت نے اِن عجائب گھروں کی تجدید و مرمت پر تقریباً ایک اعشاریہ پانچ ارب یورو خرچ کئے ہیں اور یہ آرٹ کے ایسے طاقتور مقناطیس ہیں، جو جرمنی ہی نہیں دُنیا بھر سے شائقین فن کو اپنی جانب کھینچتے رہتے ہیں۔

جرمن شہر میونح میں قائم مشہورِ عالم جرمن ٹیکنیکل میوزیم جرمنی کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دیکھا جانے والا عجائب گھر ہے۔ اِسے سالانہ 1,4 ملین افراد دیکھنے کے لئے جاتے ہیں اور یوں اب تک کروڑوں لوگ اِس میں رکھے جانے والے ٹیکنالوجی کے نایاب نمونے دیکھ چکے ہیں۔ اِنہی میں شامل ہیں، سابق وفاقی جرمن صدر ژوہانیس راؤ بھی، جنہوں نے اِس عجائب گھر کی ایک سیر کے دوران وہاں اپنی پسندیدہ ترین شَے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا:’’جس میز پر نوبیل انعام یافتہ جرمن سائنسدان اوٹو ہان بیٹھ کر کام کرتے تھے اور تجربات کرتے تھے، اُسے دیکھ کر مَیں ہمیشہ بہت مسحور ہوجایا کرتا تھا۔ لیکن یہ بہت پہلے کی بات ہے۔ اب تو یہاں اتنی زیادہ چیزیں ہیں کہ انسان اُن سب کو ذہن میں رکھ ہی نہیں سکتا۔ ویسے اب افسوس کہ میرے پاس اتنا وقت بھی نہیں ہوتا اور اتنی ہمت بھی نہیں کہ سب کچھ دیکھ سکوں۔‘‘

میونخ کے عجائب گھر میں موجود مصنوعات کا ذخیرہ گذشتہ 105 برسوں سے جمع کیا جا رہا ہے اور اِس میں بھاپ کے انجن اور ریل گاڑی سے لے کر خلاء میں قائم کی جانے والی لیباریٹریز تک اور کمپیوٹر سے لے کر نانو ٹیکنالوجی کے شاہکاروں تک سبھی کچھ موجود ہے۔

جرمن ٹیکنیکل میوزیم میں ٹیکنالوجی کے ہوش رُبا سفر پر لے کر جانے والی اِن مصنوعات کی اصل تعداد ایک لاکھ بنتی ہے، جبکہ اِس میں سے آدھی سے بھی کم مصنوعات عجائب گھر کی مستقل نمائش کا حصہ ہیں۔ اِس عجائب گھر کی سن 1925ء میں تعمیر ہونے والی موجودہ عمارت کو دوسری عالمی جنگ میں کافی نقصان پہنچا تھا لیکن اِسے محض ہنگامی نوعیت کی مرمت کے بعد ہی شائقین کے لئے کھول دیا گیا تھا۔ ایسے میں اِس عجائب گھر کو اب تجدید اور مرمت کی اشد ضرورت ہے، جس پر ایک اندازے کے مطابق 400 ملین یورو کی لاگت آئے گی اور دَس تا پندرہ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔ آج کل اِس میوزیم کا سالانہ بجٹ تقریبا 32 ملین یورو ہے اور یہاں تقریباً 400 افراد کام کرتے ہیں۔

Deutschland Museumsmeile in Bonn

بون کا آرٹ میوزیم۔ مرکزی شاہراہ پر ایک ہی قطار میں کئی عجائب گھر واقع ہیں۔

جرمنی کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عجائب گھروں میں برلن کا یہودی عجائب گھر بھی شامل ہے، جس کا افتتاح 9 سال پہلے ہوا تھا۔ اِس میوزیم میں دو ہزار سالہ جرمن یہودی تاریخ دیکھی جا سکتی ہے۔ یہاں کی مستقل نمائش اور وقتاً فوقتاً منظم کی جانے والی نمائشیں جرمنی میں یہودیوں اور غیر یہودیوں کے درمیان نشیب و فراز سے عبارت تعلقات کا احاطہ کرتی ہیں۔

یہاں ایک شعبہ یہودیت اور اسلام کے درمیان مماثلتوں کا بھی ہے، جس میں رہنمائی کے فرائض بھی مسلمان ہی انجام دیتے ہیں۔ اِنہی میں شامل ایک ترک نژاد جرمن مسلمان اُفُوق توپکارا بتاتے ہیں:’’جرمن اسکولوں کے اساتذہ اکثر بتاتے ہیں کہ مسلمان بچوں سے یہودی عجائب گھر کی سیر کا کہا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا اُس سے کیا لینا دینا۔ ہمارا تو یہودیوں کے قتلِ عام سے کوئی تعلق نہیں۔ یا یہ کہ مَیں وہاں کیوں جاؤں، مَیں تو یہودیوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، دُنیا میں اُس سے خراب کوئی بات ہی نہیں۔ اِس عجائب گھر میں جا کر تو مَیں بھی اُن کے کارناموں میں ایک طرح سے شریکِ کار بن جاؤں گا۔ مزے کی بات تو مَیں نے یہ سنی کہ اِس عجائب گھر کے داخلہ ٹکٹوں کی آمدنی اسرائیلی ریاست کو جاتی ہو گی۔‘‘

اِس گائیڈ نے یہ بتایا کہ بہت سے مسلمان بچوں کی جانب سے اِس عجائب گھر کو دیکھنے سے سرے سے انکار کے واقعات بھی کم نہیں ہیں۔ برلن کے اِس یہودی میوزیم کو سالانہ سات لاکھ افراد دیکھنے جاتے ہیں۔

Lahore Museum in Pakistan

لاہور کی مال روڈ پر مشہور زمزمہ توپ کے پس منظر میں لاہور عجائب گھر کی عمارت نظر آ رہی ہے۔

پاکستان کا ثقافتی مرکز کہلانے والے شہر لاہور کا عجائب گھر جنوبی ایشیا بلکہ جنوب مشرقی ایشیا کے بھی اہم ترین عجائب گھروں میں شمار ہوتا ہے۔ اِسے سالانہ دو تا پانچ لاکھ شائقین دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔ یہ میوزیم سن 1890ء میں قائم ہوا تھا۔ ناہید رضوی نے، جو آج کل اِس کی ڈائریکٹر ہیں، ڈوئچے ویلے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی تقریبات کے دوران اِس عجائب گھر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ سن 1894ء میں تمام نوادرات اِس عجائب گھر کی موجودہ عمارت میں منتقل کئے گئے۔

لاہور کی مشہور مرکزی شاہراہ مال روڈ یا شاہراہِ قائد اعظم پر واقع اِس عمارت کا ڈیزائن بھائی رام سنگھ اور مشہور ادیب Rudyard Kipling کے والد John Lockwood Kipling نے مل کر بنایا تھا۔

میوزیم کی ڈائریکٹر ناہید رضوی نے بتایا کہ تقسیمِ ہند کے وقت انگریزوں نے ایک فارمولا بنایا کہ پاکستان میں شامل علاقوں سے ساٹھ فیصد نوادرات بھارت کو ملیں گے جبکہ بھارت سے چالیس فیصد نوادرات پاکستان کے حصے میں آئیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اِس فارمولے کے تحت لاہور میوزیم کو اپنے چالیس فیصد نودرات بھارت کے حوالے کرنا پڑے، جو آج کل چندی گڑھ میوزیم میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

ناہید رضوی نے بتایا کہ عجائب گھر کو دیکھنے کے لئے بیرونِ ملک سے پہلے بہت زیادہ تعداد میں سیاح آتے تھے لیکن اب اُن کی تعداد کافی کم ہو گئی ہے۔ اندرونِ ملک سے طبقہء امراء سے تعلق رکھنے والے شہری بہت کم تعداد میں عجائب گھر کی سیر کے لئے آتے ہیں، زیادہ تعداد ایسے شہریوں کی ہوتی ہے، جو متوسط اور غریب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسکولوں کے طلبہ و طالبات بھی دُور و نزدیک سے گروپوں کی شکل میں اِس میوزیم کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔

ناہید رضوی کا کہنا تھا کہ ویسے تو میوزیم کی پوری کلیکشن ہی نادر و نایاب اَشیاء پر مشتمل ہے لیکن بنیادی طور پر یہ عجائب گھر گندھارا تہذیب کے نوادرات، اپنے مِنی ایچر پینٹنگز کے ذخیرے اور قدیم تاریخی اَدوار کے سِکّوں کے لئے مشہور ہے۔ تاہم جس چیز کے لئے یہ عجائب گھر پوری دُنیا میں شہرت رکھتا ہے، وہ ہے، مہاتما بدھ کی دوسری صدی قبل مسیح کی وہ مُورتی، جسے فاسٹنگ سِدھارتھا یا فاسٹنگ بدھا کا بھی نام دیا جاتا ہے۔

لاہور میوزیم کی ڈائریکٹر کے مطابق مجموعی طور پر اِس عجائب گھر کے نوادرات کی تعداد 90 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ چونکہ میوزیم کا رقبہ اتنی اَشیاء کی نمائش کے لئے بہت کم ہے، اِس لئے اِن میں سے بہت کم نوادرات کو نمائش کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ آج کل ایک امریکی ماہرِ تعمیرات اِس میوزیم کے دوسرے حصے کا ڈیزائن بنا رہے ہیں، جس کی تعمیر کے بعد زیادہ بڑی تعداد میں نوادرات دکھائے جا سکیں گے۔

آج کل لاہور میوزیم کا سالانہ بجٹ تین کروڑ روپے ہے، تاہم عجائب گھر کو داخلہ ٹکٹوں اور مشہور نوادرات کی نقول کی فروخت سے بھی کچھ آمدنی ہو جاتی ہے، جبکہ اِسے مختلف اداروں اور شخصیات کی جانب سے عطیات بھی مل جاتے ہیں۔ تاہم ناہید رضوی کے مطابق دیگر بہت سے عجائب گھروں کے مقابلے میں لاہور میوزیم کا بجٹ بہت ہی کم ہے۔

Frankreich Museum Louvre Paris

فرانسیسی دارالحکومت پیرس کے مشہورِ زمانہ لُوور عجائب گھر کا ایک منظر

اِس سال بون شہر کے مشہور نمائشی ہال میں گندھارا تہذیب کے موضوع پر ایک عظیم نمائش نومبر کے مہینے میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اِس میں رکھے گئے نوادرات کی ایک بڑی تعداد لاہور میوزیم سے مستعار لی جا رہی ہے۔ بون ہال کی انتظامیہ فاسٹنگ بدھا کو بھی یہاں نمائش کے لئے پیش کرنا چاہتی ہے لیکن ناہید رضوی کے مطابق پاکستانی حکام ابھی اتنی قیمتی چیز کو ایک طویل اور مہماتی سفر پر بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

دُنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر فرانس کے دارالحکومت پیرس کا Louvre عجائب گھر ہے، جس کا نمائشی رقبہ 19 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اُسے سالانہ فرانس اور دُنیا بھر سے پانچ ملین سے زیادہ شائقین دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔ اِس عجائب گھر میں موجود پینٹنگز اور مجسموں وغیرہ کی تعداد 30 ہزار سے بھی زیادہ ہے، جن میں مایہ ناز اطالوی مصور لیونارڈو ڈا وِنچی کا تخلیق کردہ شاہکار مو نا لیزا بھی شامل ہے۔