1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمنی کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں روزگار کے نئے مواقع

جرمنی کے ٹیکنالوجی سیکٹر کی شرح نمو میں وسیع تر اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں ملازمتوں کے ہزاروں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ جرمنی کو اس وقت آئی ٹی ماہرین کی قلت کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔

default

بِٹکوم انڈسٹری آرگنائزیشن نے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے اپنی نئی پیش گوئی میں کہا ہے کہ 2011ء اور 2012ء کے دوران اس شعبے کی شرح نمو میں دو فیصد اضافہ متوقع ہے۔ BITKOM کے صدر اوگسٹ وِلہیلم شِیر کا کہنا ہے کہ معیشت کے لیے سازگار ماحول اور بڑے پیمانے پر ایجادات کی بدولت ہائی ٹیک سیکٹر کی ڈیمانڈ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

خیال رہے کہ ٹیکنالوجی سیکٹر جرمن معیشت میں دوسرے نمبر پر ہے جس کے بارے میں بِٹکوم نے یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ رواں برس اس شعبے میں ملازمتوں کے دس ہزار مواقع پیدا ہوں گے۔ امسال دنیا بھر میں آئی ٹی سیکٹر کی شرح نمو میں چار اعشاریہ چار فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جب کہ آئندہ برس اس شرح میں 5.3 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

پیش گوئیوں پر مبنی یہ اعداد و شمار ٹیکنالوجی کے شعبے میں دنیا کی سب بڑی نمائش CeBIT کے انعقاد کے موقع پر جاری کیے گئے ہیں جو منگل سے جرمنی کے شہر ہنوور میں شروع ہو گئی ہے۔

NO FLASH CeBIT 2011 Merkel Erdogan Eröffnung

ہنوور کے ٹیکنالوجی فیئر میں پیر کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن بھی شریک ہوئے

اس نمائش میں ستّر ممالک سے چار ہزار دو سو ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کی شرکت متوقع ہے جن میں گوگل، آئی بی ایم، ایس اے پی، مائیکروسافٹ، ایچ پی، اور ڈیل بھی شامل ہیں۔

اُدھر جرمن انجینیئرز ایسوسی ایشن کے ڈیٹیر ویسٹر کامپ نے کہا ہے کہ سافٹ ویئر کمپنیوں کو ملک میں باصلاحیت افرادی قوت کے بحران کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ بیرون ممالک اپنی شاخیں کھول رہی ہیں۔ اس ایسوسی ایشن نے ایک سروے کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق بیس فیصد جرمن کمپنیاں کم از کم اپنے آئی ٹی آپریشنز کا حصہ بیرون ملک منتقل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

انہوں نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ جرمنی کو اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساڑھے سولہ ہزار ماہرین کی قلت کا سامنا ہے جبکہ یونیورسٹیاں اس طلب کو پورا نہیں کر پا رہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس