1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی کے ’سپر سٹار‘ جانور

جرمنی میں جانور مسلسل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ پہلے ایک برفانی ریچھ پھر ایک آکٹوپس اور اب ہائڈی نامی جانور کو ایک سٹار کے طور پر کوریج دی جا رہی ہے۔

default

ہائڈی کے نام سے پکارے جانے والے صاریغ کو جرمن شہر لائپزگ کے ایک چڑیا گھر میں رکھا گیا ہے۔ ہائڈی کے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک سٹار بننے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دیکھنے میں یہ جانور معصوم لگتا ہے۔ یو ٹیوب پر ہزاروں افراد اس کی ویڈیو دیکھ چکے ہیں اور فیس بک پر اس کے مداحوں کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

Schielende Opossum Dame Heidi Zoo Leipzig

ہائڈی نام کا یہ صاریغ جرمنی کے ایک چڑیا گھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے

اگر فیس بک پر اس جانور کے مداحوں کا مقابلہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے فیس بک فینز سے کیا جائے، تو تعداد کے لحاظ سے ہائڈی کے مداح زیادہ بنتے ہیں۔ فیس بک پر جرمن چانسلر کے مداحوں کی تعداد 65 ہزار ہے۔ جرمن اخبارات کے مطابق لوگ ہائڈی کو بہت پسند کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چڑیا گھر میں اسے دیکھنے لے لیے آنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

فرینکفرٹ کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ ہائڈی جرمنی کا نیا Knut ہے۔ کنُوٹ برلن میں پیدا ہونے والے ایک سفید برفانی ریچھ کے بچے کا نام رکھا گیا تھا اور اسے بھی بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی تھی۔

BdT Eisbär-Baby Knut aus dem Berliner Zoo

ہائڈی سے قبل Kunt نامی یہ برفانی ریچھ جرمنی میں نہایت مقبول رہا

ہائڈی کی اتنی مقبولیت پر چڑیا گھر والے بھی حیران ہیں۔ چڑیا گھر کے ڈائریکٹر ژرگ یون ہولڈ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہائڈی کی شہرت کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ یہ صرف میڈیا ہی ہے جس کی وجہ سے یہ کہانی انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن تک پہنچی ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں جانوروں سے متعلق ایک فلم بنائی جا رہی تھی، جس میں ہائڈی کی ایک جھلک دکھائی گئی تھی اور یہ معصوم سا جانور بہت سہما ہوا تھا۔ ٹی وی پر یہ فلم دکھائے جانے کے بعد سے وہ بہت مشہور ہو گیا ہے۔

مصوم اور پیارے جانور لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں اور کسی بھی چڑیا گھر کی مشہوری میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر جرمن عوام ابھی بھی Knut نامی سفید ریچھ کو نہیں بھولے۔ اس چھوٹے سفید برفانی ریچھ کو اس کی ماں نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد اسے برلن میں مقامی چڑیا گھر کے ایک ملازم نے پالا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد بدقسمتی سے دونوں ہلاک ہو گئے تھے لیکن عوام کے دلوں میں وہ ابھی بھی زندہ ہیں۔

رپورٹ: امتیازاحمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM