1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی چھبیس ویں سالگرہ

مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن میں جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے چھبیس برس پورے ہونے پر آج خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ صوبہ سیکسنی کے دارالحکومت ڈریسڈن کی صورتحال ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کشیدہ ہے۔

جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی چھبیس ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ہزار سے زائد مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، صدر یوآخم گاؤک اور پارلیمان کے اسپیکر نوربرٹ لامرٹ بھی شامل ہیں۔ پیر کی صبح جب چانسلر میرکل ڈریسڈن پہنچیں تو وہاں پر موجود کچھ افراد نے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مظاہرین چلا رہے تھے،’’میرکل کو جانا ہو گا‘ اور میرکل ’قوم کی غدار‘۔‘‘ نعرے بازی کرنے والوں میں اسلام اور مہاجرین مخالف تنظیم ’پگیڈا‘ کے بانی لٹز باخمان کے حامی اور دائیں بازو کی تنظیم آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ کے کارکن بھی شامل تھے۔

Deutschland Protest am Tag der Deutschen Einheit

پیر کی صبح جب چانسلر میرکل ڈریسڈن پہنچیں تو وہاں پر موجود کچھ افراد نے ان کے خلاف نعرے بازی کی

روایت کے مطابق آج کی تقریب میں سولہ جرمن صوبوں کی نمائندگی بھی لازمی ہے۔ اس موقع پر ڈریسڈن میں سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے اور تقریباً تمام ہی ہوٹلز مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ اس دوران گزشتہ روز شہر میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد کچھ لوگوں نے اپنی بکنگز منسوخ بھی کرائی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کی پیر کی درمیانی شب نا معلوم افراد نے پولیس کی تین گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ حکام کے بقول اس واقعے میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع تو نہیں ہے تاہم ہزاروں یورو کا مالی نقصان ضرور ہوا ہے۔ اس کے بعد سے شہر میں سلامتی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس واقعے کا تعلق شہر میں دوبارہ اتحاد کی تقریبات سے ہے۔

 شہر کے میئر ڈرک ہلبرٹ نے مقامی افراد ا اور سیاحوں سے کہا ہے کہ وہ تقریبات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں۔ اتوار کو مسلمانوں کے نئے سال کے آغاز کے موقع پر میئر ڈرک ہلبرٹ نے ایک استقبالیے کا اہتمام کیا تھا، جس پر دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے انہیں بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غدار قرار دیا گیا۔ ڈریسڈن کی پہچان کے طور پر مشہور فراون کرشے یا ’چرچ آف اوور لیڈی‘ میں دعائیہ عبادت سے جرمنی کے دورباہ اتحادکی تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ کلیسیا دوسری عالمی جنگ کے دوران بمباری میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔ ڈریسڈن میں آج بائیں بازو کی تنظیموں اور دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے الگ الگ ریلیاں نکالی جائیں گی۔